تقریبا ایک ماہ پہلے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان پر پہلا حملہ کیا گیا ہے۔ پے در پے ہونے والے دھماکوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور انیس زخمی ہو گئے ہیں۔
افغانستان کے مقامی میڈیا اور طبی حکام کے مطابق ہفتے کے دن جلال آباد میں طالبان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں پے در پے تین دھماکے ہوئے۔ جن گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، ان پر طالبان سوار تھے۔ طبی حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔
ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ لیکن اس صوبے میں داعش سے ہمدردری رکھنے والے عسکری گروہ سرگرم ہیں اور انہیں طالبان کا مخالف سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی داعش اور طالبان کے عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کے کہ آیا ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں طالبان شدت پسند شامل ہیں۔
دوسری جانب آج ہی افغان دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں بھی ایک دھماکا ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ دھماکا ہزارا برادری کی اکثریت والے علاقے تیرہ میں ہوا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس حملے میں ممکنہ طور پر دیسی ساختہ بم استعمال ہوا ہے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ دھماکے میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ فوری طور پر کسی گروہ نے اس حملے کی بھی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔