کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اوربلوچستان کی متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق جام کمال نے گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فونک بات چیت کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیا۔
جس پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے اراکین اسمبلی بلوچستان عوامی پار ٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔
بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادی گئی۔
بی این پی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے ارکان صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو،ثناء بلوچ،حمل کلمتی،نصراللہ زیرے،میر زابد ریکی،شام لعل لاسی،یونس عزیز زہری، احمد نواز بلوچ سمیت متحدہ اپوزیشن کے 16ارکان کے دستخط سے عدم اعتماد کی تحریک سیکرٹری اسمبلی کے پاس جمع کروادی ہے۔
درخواست میں کہا گیا نے کہ گزشتہ تین سال میں جا م کمال کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شدید مایوسی،بدامنی،بے روزگاری اور اداروں کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آئین کی شق 37اور38کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر منصفانہ، عدم مساوات اور متعصبانہ ترقیاتی بجٹ پیش کئے جس سے دانستہ طور پر علاقوں میں پسماندگی،محرومی اور بدامنی میں انتہا درجہ کا اضافہ ہوا ہے،بلوچستان میں قتل،اغواء، چوری،ڈکیتی اور دہشت گردی کے باعث عوام ہر روز سراپا احتجاج ہیں اورشدید عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔
بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے جام کمال نے وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی اور بنیادی حقوق کے مسائل پر انتہائی غیر سنجیدگی کاثبوت دیا جس سے صوبہ میں بجلی،گیس،پانی اور شدید معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔