ڈیرہ اللہ یار میں ہندو پنچائت کی جانب سے کمسن مغوی بچی پریا کماری کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی ریلی نکال کر مزدور چوک پر دھرنا دیا گیا ہندو پنچائت نے گیانداس مندر سے ایڈووکیٹ امیش کمار اور چوہدری راجکمار کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکال کر شہر کے مین بازار سے مارچ کرتے ہوئے مزدور چوک پر دھرنا دیا اور عدالت روڈ کو جانے والی ٹریفک بند کردی۔
احتجاجی دھرنے دھرنے سے ایڈووکیٹ امیش کمار، چوہدری راجکمار، سریش کمار، سمیت کمار و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر کے علاقے سنگرار سے اغوا ہونے والی کمسن بچی پریا کماری کی بازیابی کے لیے سکھر سندھ پولیس سنجیدہ نظر نہیں آرہی مغوی بچی کی عدم بازیابی کے باعث ہندو کمیونٹی اور اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ پولیس روزانہ جھوٹے دلاسے دے رہی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ہندو کمیونٹی پاکستان کی پرامن کمیونٹی ہے لیکن اپنے ہی وطن میں عدم تحفظ کا شکار ہیں سکھر پولیس سنجیدہ اقدام اٹھائے تو مغوی بچی ایک دن بازیاب ہوسکتی ہے تاہم پولیس کی غیر سنجیدگی اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ پولیس اغواکاروں کا پتہ لگانے کے بجائے مغوی کے اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں مغوی بچی بازیاب نہیں ہوئی تو بلوچستان بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائیگا۔