جبری لاپتہ سندھی و بلوچوں کی بازیابی کیلئے سندھ میں احتجاج جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

سندھ کے شہر راٹیپور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاجی کیمپ آج 28 ویں بھی جاری رہی۔

شاگرد رہنماذاکر سھتو ایوب کاندہڑو، ساگر سعید گاڈھی، شبیر بلیدی، اعجاز گاھو، انصاف دایو، ظفر چانڈیو، اللہ ودھایو مھر، موہن میگھواڑ، پٹھان خان زھرانی، مرتضی جوٹیجو، سھیل رضا بھٹی، محمد خان وگھیو، نسیم بلوچ، ذاکر مجید بلوچ اور دیگر سندھ و بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے قوم پرست کارکنان کی بازیابی کیلئے جاری احتجاجی کیمپ میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا نہ رکنے والا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ابتک ہزاروں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر کے لاپتہ کیا گیا ہے۔

احتجاجی کیمپ میں شریک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیاں یو این او کے 10 دسمبر 1948 کے جاری کردہ چارٹر کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور خود پاکستانی آئین کے آرٹیکل 4. 9. 10 اور 14 کی بھی خلاف ورزی ہے، جوکہ پاکستانی خفیہ اداروں کی طرف سے کی جارہی ہے۔

انہوں نے عالمی عدالت، انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی سماجی کارکنوں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غیر اخلاقی اور غیر قانونی جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیں اور سندھ کے قوم پرست کارکنوں کی اخلاقی اور قانونی مدد کریں۔

Share This Article
Leave a Comment