پنجشیر جنگ میں شدت، طالبان ایک جنونی و جابرانہ گروہ ہے،مزاحمتی کمانڈر

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پنجشیر کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر پنجشیر کی طرف جانے والی سڑکیں نہیں کھولی گئیں تو صوبے کے لوگ بھوکے مریں گے۔

طلوع نیوز کے مطابق کچھ خاندان جو پنجشیر سے کابل بھاگ کر آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں ٹیلی کمیونیکیشن، بجلی اور رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

ایک خاندان جس کا نوجوان بیٹا پنجشیر جنگ میں مارا گیا تھا، کا کہنا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔

متاثرہ خاندان کی شائستہ مہرابن نے بتایا کہ لڑائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگ پہاڑوں پر جا کر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی سابق جہادی رہنما عبدالرسول سیاف نے شہریوں اور ان کی املاک کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔

سیاف کا کہنا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی فوری طور پر رکنی چاہیے۔

جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔

طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ پنجشیر میں حالات اب نارمل ہیں۔

سمنگانی کا کہنا ہے کہ ’پنجشیر میں حالات نارمل ہیں۔ یہ علاقہ اب امارت اسلامیہ مجاہدین کے کنٹرول میں ہے اور بہت سے شہریوں کو ہلاک اور تشدد کا نشانہ بنانے والی افواہیں جھوٹی ہیں۔‘

دوسری جانب افغان قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجو صالح محمد ریگستانی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے طالبان پر پنجشیر میں ’قتل و بربریت‘ کا الزام لگایا ہے۔ طالبان نے ابھی تک ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

ریگستانی نے ویڈیو میں کہا ’طالبان نے افغانستان کے محفوظ ترین صوبے پنجشیر پر حملہ کر دیا ہے اور دہشت گردی، قتل اور بربریت کی وارداتیں کی ہیں۔‘

گذشتہ روز 9 ستمبر کو احمد شاہ مسعود کے قتل کی بیسویں برسی تھی۔ ان کے ساتھ لڑنے والے کمانڈروں نے بیس سال بعد احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف ’دوسری مزاحمت‘ جاری رکھی ہوئی ہے۔

فوجی وردی پہنے ریگستانی کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’پنجشیر میں طالبان کا داخلہ جنگ کا اختتام نہیں بلکہ جنگ کا آغاز ہے۔‘

انھوں نے طالبان کو ایک ’جنونی اور جابرانہ گروہ‘ قرار دیا۔

بی بی سی فارسی نے طالبان کے ترجمانوں سے پنجشیر کی صورتحال اور مبینہ طور پر شہریوں کے قتل کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک بی بی سی کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment