خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ اگر طالبان کی حکومت نے خواتین کو اس کھیل سے دور رکھا تو وہ افغانستان کے ساتھ ایک طے شدہ ٹیسٹ میچ نہیں کھیلیں گے۔
حال ہی میں طالبان کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ انھیں لگتا ہے خواتین کے لیے کرکٹ کھیلنا ’ضروری نہیں‘ اور یہ اسلام کے خلاف ہوگا اگر کسی حالت میں ان کا چہرہ اور جسم ڈھکا ہوا نہ ہو۔
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’عالمی سطح پر خواتین کی کرکٹ کی گروتھ کرکٹ آسٹریلیا کے لیے بہت اہم ہے۔ ہمارا ویژن ہے کہ یہ کھیل سب کے لیے ہونا چاہیے اور ہم اس کھیل کو خواتین کے لیے برابری کی سطح پر لانا چاہتے ہیں۔‘
’اگر افغانستان میں خواتین کی کرکٹ کو حمایت نہ ملنے کی حالیہ اطلاعات صحیح ثابت ہوتی ہیں تو کرکٹ آسٹریلیا کے پاس اس کے سوا کوئی متبادل نہیں ہوگا کہ وہ افغانستان کی میزبانی اس ٹیسٹ میچ کے لیے نہیں کریں گے جو ہوبارٹ میں کھیلا جانا ہے۔‘
شیڈول کے مطابق آسٹریلیا نے افغانستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نومبر 27 کو کھیلنا تھا۔