بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں شال میں میڈیکل کے طالب علموں پر لاٹھی چارج اور انھیں سلاخوں کے نظر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم طالب علموں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور طالب علموں کی حمایت میں کل شال سمیت تمام زون احتجاجی ریلی کا انعقاد کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے منعقد ٹیسٹ میں جہاں کورس کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہوئے طالب علموں کے تعلیمی تسلسل میں رکاوٹیں حائل کیں وہیں جمہوری طرز طریقہ اختیار کرنے والے طالب علموں کے پرامن احتجاج کو لاٹھی چارج کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں سلاخوں کے نظر کرنا ایک غیر آئینی اور غیر قانونی عمل تصور ہوتا ہے۔ طالب علموں کے احتجاجی عمل کو جہاں سبوتاژ کیا گیا وہیں طالب علموں پر تشدد اور طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے انھیں ان کے آئینی اور جمہوری حق چھینے کی کوشش کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان جو تعلیمی حوالے سے پسماندہ ترین صوبہ تصور کیا جاتا ہے وہیں سینکڑوں کی تعداد میں طالب علم ہر سال میڈیکل کے ٹیسٹ کی تیاری کرتے ہیں۔ مذکورہ ٹیسٹ میں کورس سے باہر کے مواد کا شامل کرنا طالب علموں کے مستقبل پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے اور اس عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی طالب علموں کے تمام مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر موڑ پر طالب علموں کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے کہا کہ آج طالب علموں پر ہونے والا تشدد نہایت ہی گھناؤنا اور غیر آئینی عمل ہے۔ تنظیم اس عمل کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس عمل کے خلاف کل شال، اوتھل اور کراچی سمیت تمام زون کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا جائے گا۔