امریکہ نے کہا ہے کہ اسے طالبان کی عبوری حکومت میں شامل کیے گئے ناموں پر تشویش ہے مگر وہ انھیں اقدامات پر جانچیں گے جن میں افغانوں کی آزادی شامل ہے۔
امریکہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن افغانستان پر بات چیت کے لیے قطر کے دورے پر ہیں۔
امریکہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ اس فہرست میں ایسے نام شامل ہیں جو طالبان کے رکن ہیں یا ان کے قریبی ساتھی ہیں اور ان میں خواتین شامل نہیں۔ ہمیں کچھ لوگوں کے ماضی اور وابستگیوں پر تشویش ہے۔‘
خیال رہے کہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ملا محمد حسن اخوند، جو کہ تحریک طالبان کے بانیوں میں سے ہیں، کا شمار اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں ہوتا ہے۔ جبکہ نئے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کے رہنما رہ چکے ہیں اور ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔
تاہم امریکی دفتر خارجہ کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں طالبان نے ایک عبوری کابینہ پیش کی ہے۔ لیکن ہم طالبان کو ان کے اقدامات پر جانچیں گے، نہ کہ ان کی باتوں پر۔۔۔ ہمیں امید ہے طالبان یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔‘
امریکہ نے ایک بار پھر طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افغانوں اور امریکی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی اجازت دی جائے جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اس سے قبل بلنکن نے قطر میں کہا کہ طالبان اس وقت تک تعاون کر رہے ہیں جب تک مسافروں کے پاس سفری دستاویزات ہیں۔ ریپبلکن جماعت کے پارلیمانی رہنماؤں اور کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ کابل میں کچھ چارٹر طیارے پھنسے ہوئے ہیں۔