ضلع گوادر: ایف سی نے جبراً ایک نوجوان کوحراست میں لے لیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ضلع گوادر کے ساحلی بستی جیوانی میں فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ میران حمل کے خاندان کی مدد کرنے والے زہیرنور کو بھی ایف سی نے حراست میں لے لیا ہے۔

مقامی میڈیا ”ریڈیو زرمبش“ کے مطابق ایف سی کے خلاف مقامی تھانہ میں ایف آئی آر کی درخواست دینے والے جبری لاپتہ میران حمل کے والد کو ایف سی نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے دباؤ میں ڈال کر ایف آئی آر واپس لینے کا کہا ہے جبکہ ان کی مدد کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن زہیر نور کو ایف سی کے علاقائی کمانڈر عمر نے گوادر میں طلب کرکے زیرحراست میں رکھا ہے۔

مقامی میڈیا ”زرمبش“ نے دعویٰ کیا ہے کہ زہیر پر مقامی ایجنٹوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے حمل کو میران کی گمشدگی کے حوالے سے ایف آئی آر کرنے، ”زرمبش“ پر خبر نشر کرنے اور وائس فار مسنگ پرسنز کے توسط کیس رجسٹر کرنے کو کہا ہے۔

زہیر نور کو پیر کی صبح گوادر میں طلب کیا گیا اور وہ پیشی کے لیے ایف سی کے پاس گئے جہاں اسے اب تک روکے رکھنے کی اطلاع ہے۔

زہیرنور جیونی کے علاقے پانوان میں انسانی حقوق کے ایسے دوسرے کارکن ہیں جنھیں انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ رابطہ رکھنے پر جبری گمشدگی اور ٹارچر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے پہلے ایک اور نوجوان کو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں جانے اور ماما قدیر کے ساتھ رابطہ رکھنے کے الزام میں ٹارچر اور گمشدگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment