افغانستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے، امریکی جنرل مارک ملی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے اور ایسی صورت میں دہشت گرد گروپ دوبارہ سر اُٹھا سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ‘فوکس نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل مارک ملی نے کہا کہ ”افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس تناظر میں میرا عسکری تجربہ کہتا ہے کہ ملک خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔”

انہوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا طالبان جنہوں نے ابھی تک حکومت کا اعلان نہیں کیا وہ مضبوط اقتدار اور موثر حکمرانی کے قابل ہوں گے؟

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے رپورٹ کیا کہ جنرل مارک ملی کا کہنا تھا کہ ”مجھے لگتا ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا زیادہ امکان ہے اور اس کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہوں گے جو حقیقت میں القاعدہ کی تشکیل نو یا داعش یا دیگر دہشت گروپس کے پروان چڑھنے کا سبب بن سکتے ہیں۔”

جنرل مارک ملی نے کہا کہ افغانستان میں ایسے حالات جنم لے سکتے ہیں جس میں آئندہ 12، 24 یا 36 مہینوں کے اندر آپ اس خطے میں دہشت گردی کو دوبارہ پنپتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

کابل پر کنٹرول کے باوجود طالبان کو اب بھی شمالی افغانستان کے صوبے پنجشیر میں مزاحمت کا سامنا ہے اور اطلاعات کے مطابق وہاں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ فورسز کے انخلا کے بعد کہیں افغانستان دوبارہ ایسے دہشت گردوں کی آماجگاہ نہ بن جائے جو ان ممالک پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

البتہ امریکی حکام یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر افغان سرزمین امریکہ کے خلاف استعمال ہوئی تو امریکہ غیر معمولی ردِعمل دے گا۔

البتہ طالبان یہ یقین دہانی کراتے رہے ہیں کہ وہ کسی کو بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

خیال رہے کہ سوویت یونین کے انخلا کے بعد نوے کی دہائی میں بھی افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی جس میں لاکھوں افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment