طالبان نے وادی پنجشیر، جہاں تاحال ان کا کنٹرول نہیں ہے، میں مزاحمتی اتحاد کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں سبقت حاصل ہے۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
تاہم سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے سوشل میڈیا پر ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ دعوے ’بے بنیاد ہیں‘ اور وہ ’اب بھی وادی میں موجود ہیں۔‘
طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے وادی میں فتح حاصل کر لی ہے۔
قومی مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان علی نظاری نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو طالبان پر سبقت حاصل ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان کی پروپیگنڈا مشین یہ دعوے دہرا رہی ہے کہ پنجشیر ان کے قبضے میں ہے۔ ہم یہ گذشتہ ہفتے سے دیکھ رہے ہیں اور یہ غلط ہے۔ بلکہ اس سے الٹ ہوا ہے۔ قومی مزاحمتی فرنٹ نے انھیں بھاگنے پر مجبور کیا ہے۔‘
علی نظاری نے کہا ہے کہ مزاحمتی اتحاد نے وادی کے شمال مشرقی حصے میں طالبان کے جنگجوؤں کو گھیر لیا ہے۔
’یہاں کچھ سو طالبان جنگجو پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا اسلحہ ختم ہو رہا ہے اور اس وقت وہ ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر مذاکرات کر رہے ہیں۔‘
دوسری طرف کابل میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ تاحال اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
تین طالبان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے وادی پنجشیر پر قبضہ کر لیا ہے۔
ایک طالبان رہنما نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ’تخریب کاروں کو ہرا دیا گیا ہے اور پنجشیر اب ہمارے قبضے میں ہے۔‘ تاہم آزادانہ طور پر طالبان کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
طالبان مخالف مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں طالبان پر سبقت حاصل ہے۔
قیاس آرائیوں کے مطابق کابل میں ہوائی فائرنگ کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ملا برادر کو ریاست کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پنجشیر وادی میں ہی موجود ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ طالبان قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
امراللہ صالح نے واضح کیا کہ ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم افغانستان کے لیے کھڑے ہیں۔‘