یورپی یونین کے ممالک کے وزرائے دفاع کا اجلاس کل جمعرات کو سلووینیا میں ختم ہونے کے بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے عہدیدار جوزف بوریل نے زور دے کر کہا کہ یورپی ممالک افغانستان کے بحران سے سبق حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک کوئک رسپانس فورس کی تشکیل اور افریقی ساحل کے علاقے میں بھی کام کے حوالے سے اقدامات کافیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یونین اس مشن یا فورس کے لیے ضروری فوجی صلاحیتوں کا اعلان 16 نومبر کو کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ممالک طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ طالبان کے ساتھ تعلقات ان کے زمین پر اقدامات پر منحصرہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے دعووں پر کتنے اترتے ہیں۔
بوریل نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ یورپی یونین طالبان کو میدان میں ایک موثر اتھارٹی تسلیم کرتی ہے لیکن اسے سیاسی طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
پولینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی ممالک کو افغانیوں کو باہر جانے کی دعوت دینا چھوڑ دینا چاہیے اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک افغان باشندوں کو اپنا ملک چھوڑنے کا مطالبہ نہیں مانتا۔
سلووینیا کے وزیر دفاع نے بوریل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران زور دیا کہ افغانستان کے بحران نے ظاہر کیا کہ یورپ کے پاس کافی فوجی صلاحیت نہیں ہے۔
یورپی یونین کے ممالک کے وزرائے دفاع نے جمعرات کو سربراہی کانفرنس کے دوران کوئک رسپانس فورس کی تشکیل پرتبادلہ خیال کیا۔ کیونکہ افغانستان سے امریکا کی قیادت میں انخلا کے معاملے پریورپی بلاک کو حاشیے پر رکھا گیا۔ اس حوالے سے گذشتہ مئی میں پہلی بار کوئک رسپانس فورس تشکیل دی گئی تھی۔اس کا مقصد یورپی یونین کی دفاعی حکمت عملی کے جائزے کے فریم ورک میں پانچ ہزارممبروں کی ایک فورس تشکیل دینا ہے جو کہ اگلے سال ختم ہونے والی ہے۔