دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ کو اب ’اس نئی حقیقت سے ہم آہنگ ہونا ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ طالبان پر ’معتدل اثرورسوخ ڈالنے کے لیے‘ ایک گروپ بنانے کی ضرورت ہے۔
’بہت سے ممالک ایسے ہیں جو افغانستان کی صورتحال سے برا راست متاثر ہوئے ہیں جبکہ بہت سے ملک ایسے بھی ہیں جو انسانی خطرے اور حالت زار سے متاثر ہوں گے۔‘
’ہم یقینی طور پر انھیں دیکھ رہے ہوں گے اور سب سے اہم بات کہ جو یقین دہانی انھوں نے کرائی ہے وہ اس کے بارے میں کیا کرتے ہیں۔‘
برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے بتایا ہے کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور قطر کے وزیراعظم سے ملاقات میں چار اہم نکات پر بات کی گئی ہے:
٭اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ افغانستان کو دوبارہ دہشتگردوں کا گڑھ نہ بننے دیا جائے۔
٭افغانستان کو کسی بھی انسانی بحران سے بچایا جائے گا اور اسی لیے ہم نے اس برس افغانستان کے لیے امداد دوگنی کر دی ہے۔
٭خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔
٭طالبان کے وعدوں کو جانچا جائے گا۔
اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس کا بہت احتیاط سے جائزہ لیں گے کہ انسانی حقوق کے شعبے میں اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ کی حکومت ’متوقع مستقبل میں طالبان کو تسلیم نہیں کرے گی۔‘