بلوچستان کے ضلع چاغی کے تحصیل نوکنڈی سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
انتظامیہ نے لاشوں کو تحویل میں لے کر دالبندین اسپتال منتقل کردیا ہے، انتظامیہ کے مطابق لاشیں مسخ ہونے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق انتظامیہ مزید تفتیش کررہی ہے ۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں ملنے والی تشدد زدہ لاشوں کا اندراج تو کیا جاتا ہے لیکن ان کی شناخت کا کوئی مؤثر طریقہ کار دستیاب نہیں ہے۔
حکومت انہیں لاوارث قرار دیکرایدھی فائونڈیشن اور چھیپا کے ذریعے دفنا دیتی ہے ۔
بلوچستان میں اکثر و بیشتر مسخ شدہ لاشیں لاپتہ افراد کی ہوتی ہیں جنہیں شناخت کے بغیر دفن کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے لاپتہ افراد کی لواحقین مزید ذہنی پریشانی کے شکار ہوتے ہیں۔
ریاست کی نئی پالیسی کے تحت سی ٹی ڈی کی جانب سے اب تک تیس سے زیادہ ایسے افراد کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا ہے جو پہلے سے لاپتہ اور ریاستی عقوبت خانوں میں تھے ۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مذکورہ لاشیں اکثر مسخ ہونے کے باعث قابل شناخت نہیں ہوتی ہے جبکہ کئی لاشوں کی شناخت لاپتہ افراد کے طور پر ہوچکی ہے۔