افغانستان کے ایک مقتول باغی کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے کل جمعہ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی افغانستان کے صوبے بغلان کے 3 اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
پچھلے کچھ دنوں میں شائع ہونے والے مضامین میں احمد مسعود نے وادی پنجشیر میں طالبان کے خلاف مزاحمت پر زور دیا اور بین الاقوامی مدد بالخصوص امریکا سے ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
اس کے علاوہ’ٹویٹر‘ پر سرگرم کارکنوں نے ایسی ویڈیوز نشر کیں جن میں مزاحمتی گروپ کے زیر کنٹرول علاقوں کی عمارتوں میں سے ایک پر افغان جھنڈا بلند کرنے اور طالبان کے جھنڈے کو ہٹانے کو دکھایا گیا۔
کمانڈر احمد شاہ مسعود جنہیں 2001 میں القاعدہ نے قتل کیا تھا کے بیٹے احمد مسعودنے گذشتہ بدھ کو ”واشنگٹن پوسٹ” کی طرف سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں جس ملیشیا کی قیادت کر رہے ہیں اس کے لیے ہتھیاروں اور گولہ بارود سے مدد کریں۔تاکہ کابل میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے والے طالبان کا مقابلہ کیا جاسکے۔
اس کے علاوہ سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے طالبان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے اعلان اور وادی پنجشیر چلے گئے۔
گذشتہ سوموار کو سوشل میڈیا پر احمد مسعود اور امراللہ صالح کی تصاویر منظرعام پر آئیں جس میں انہیں طالبان کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا اعلان کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
طالبان کبھی بھی پنجشیر وادی کو کنٹرول نہیں کر سکے کیونکہ اس وادی تک پہنچنا کافی مشکل ہے۔
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت افغان دارالحکومت کابل کے قریب وادی پنجشیر میں منظم کی گئی ہے جہاں اس کی قیادت دو اہم شخصیات سابق نائب صدر امر اللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں۔