بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں چائنیز ورکرز کے گاڑی پر دھماکا ہوا ہے۔ جس میں 2بچوں سمیت 11 ورکرز کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جن میں چینی باشندے بھی شامل ہیں۔
جبکہ دھماکے میں اب تک 2بچوں اور 2ورکرز کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا یہ ورکرز چینی باشندے ہیں یا نہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق خود کش دھماکا سی پیک کے زیر تعمیر ایکسپریس وے پر چائنیز انجینئرز کی گاڑی پر اُس وقت کیا گیا جب چائنیز انجینئرز کی گاڑیاں وہاں سے گزررہی تھی۔
کہا جارہا ہے کہ دھماکے سے ایک چائنیز سمیت تین بچے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے دونوں بچوں کی شناخت سلمان ولد درا،سلمان ولد حیدرکے ناموں سے ہوگئی ہے۔جبکہ ایکسپریس ویے کی تعمیرات پر معمور دو لیبر بھی زخمی ہوئے ہیں۔
جان بحق اور زخمیوں کو گوادر سول ہسپتال منتقل کردیاگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دھماکے وقت بچے فٹبال کھیل رہے تھے۔
ڈپٹی کمشنر گوادر میجر ریٹائرڈ عبدالکبیر زرکون نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے دھماکے اور ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ دھماکے کا ہدف اور نوعیت ابھی معلوم نہیں۔
گوادر کے ایک مقامی پولیس آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکا خودکش تھا، خودکش حملہ آور کا سر، ٹانگ اور دیگر جسمانی اعضا موقع سے ملے ہیں جنہیں پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔
حکام کے مطابق ایک خودکش دھماکے میں دو بچے ہلاک اور ایک چینی ورکر سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
تاہم علاقائی ذرائع کے مطابق جانی نقصانات کی تعداد زیادہ ہے، دوسری جانب حکام نے مذکورہ علاقے کو گھیرے میں سیل کردیا ہے جہاں صحافیوں سمیت کسی شخص کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
دھماکے میں لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال جبکہ زخمی چینی باشندے کو گوادر ڈویلپمنٹ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر سے چینی باشندے کے زخمی ہونے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے تصدیق یا تردید سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم معلومات جمع کررہے ہیں۔
واضع رہے کہ اس سے قبل بھی گوادر میں چینی باشندوں اور فورسز سمیت وی آئی پیز پر بلوچ مسلح آزادی پسندوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں۔