پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ و پی ڈی ایم کے نائب صدر محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ میں شہید عثمان خان کاکڑ کی چہلم کی مناسبت منعقدہ آخری جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوا میپ پر ہر پشتون کے دفاع کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،ہر کسی کو اپنے حق کیلئے جدو جہد اور بات کرنے کا حق حاصل ہے چاہے وہ ہمارا اپنا ہے یا مخالف،کسی کا بھی افغانستان کو قبضہ کرنے کا خواب پورا نہیں ہوگا،پی ٹی ایم کے رہنما ورکن قومی اسمبلی علی وزیر کی رہائی کیلئے۔
تمام سیاسی پارٹیاں کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں ملک گیر احتجاج کرے، علی وزیر کی رہائی کے لئے تحریک اور احتجاج میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں گے،40سال تک وطن کے دفاع پر افغانستان کے لوگوں کو گولڈ میڈل ملنا چاہیے،محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے بعد ہمیں اپنے سیاست کے اوراق کا صفحہ تبدیل کرنا ہے اسے کب اور کیسے کرنا ہے۔
یہ ہماری زمہ داری ہے،آئین کو تسلیم نہ کرنے والوں کو تسلیم کرنے والے بے غیرت ہیں جو جج، جرنیل یا کوئی اور آئین کی پاسداری کرتا ہے اسے ہم سیلوٹ کرتے ہیں،پاکستان ہمارا ملک ہے مگر تیسرے شہری کا سلوک برداشت نہیں، ہم کسی سے بھی قوم،زبان،مذہب اور مسلک کی بنیاد پر نفرت نہیں کرتے، اپنے جائز حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ آج کا جلسہ محمد عثمان خان کاکڑ شہید کے چہلم کے موقع پر آخری جلسہ ہے ہم صبر اور برداشت والے لوگ ہیں مزید ہمارے صبر و برداشت کا امتحان نہ لیا جائے، پشتونخوا وطن اور جنوبی پشتونخوا میں سیاست کی بنیاد پشتونخوا میپ نے رکھی ہمارے اکابرین نے پشتون قوم کی رہبری اور حقوق کی بات اس وقت کی تھی جب انگریز کے ڈر سے کوئی بات کرنے کو بھی تیار نہیں تھا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج پشتونخوا میپ اور بلوچوں کو کسی سے معافی مانگنے کی پالیسی نہیں اپنانی ہوگی،پشتون قوم کو شکست دینے کا خواب دیکھنے والے سن لے کہ پشتون کو کسی کا باپ بھی شکست نہیں دے سکتا آپ نے خان شہید عبدالصمد خان اور پھر عثمان خان کاکڑ کو گھر میں شہید کیا جس کا نتائج سب کے سامنے ہیں ہم اپنے شہیدوں کو بھولا نہیں کرتے۔
جو بھی جنرل، جج اور کوئی اور پاکستان کا آئین نہیں مانتا اسے جو بھی مردہ آباد نہیں کہے گا وہ بے غیرت ہے ہمیں بتایا جائے کہ نوا زشریف اورمولانا فضل الرحمن نے کیا گناہ کیاہے؟ ہم فوج کے مخالف نہیں، اگر فوج چھانیوں میں رہ کر آئین کو تسلیم کرتے ہوئے آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہے تو ہم انہیں سلوٹ کریں گے،ہم کہتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو جو آئین کو تسلیم نہیں کرتے انہیں جو بھی تسلیم کرے گا وہ بے غیرت ہے بتایا جائے کہ ہمیں کس لئے قتل کیا جارہا ہے عثمان خان کاکڑکا کیا گناہ تھا اگر ہمیں جمہوری پاکستان کے مطالبے پر شہید کیا جائے گا تو ہم چھین سے نہیں بیٹھیں گے، عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے بعد ہمیں اپنے سیاست کے اوراق کو تبدیل کرنا ہے یہ ہم نے کب اور کیسے کرنا ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کل 8اگست ہے میں نے پارلیمنٹ بھی کہا تھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی وہ جاسوسی ادارے ہیں جو گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ سکتی ہیں تو انہیں یہ کیسے نہیں معلوم کہ ہمارے 80وکلا کس نے شہید کئے، ہمارے پولیس کے بچے کس نے قتل کئے، عبیداللہ خان کاسی کو کون اغوا کرکے لے گئے یہ مذاق مزید نہیں چلے گا کہ پشتون اپنے بچے پیدا کریں گے۔
ان پر خرچے کریں گے اور پھر آپ انہیں 80ایک جگہ شہید کریں گے اور پولیس کے سینکڑوں بچے کئی اور ماردیں گے اور پھر عثمان خان کاکڑ کو گھر میں مارو گے ہم پاگل نہیں ہیں لوگ اس دن سے ڈرے جس دن ہم نے یہ کہہ دیا کہ ہم نے نہیں رہنا۔ ہم کسی کے غلام نہیں ہے یہ ایک جمہوری ملک ہے جس کے لئے جدوجہد میں چاہے وہ قید و بند ہو، زندہ آباد مردہ آباد ہو یا پھر دیگر طرز جدوجہد ہو دیگر اقوام سے زیادہ پشتونوں کا حصہ رہا ہے۔