افغان طالبان نے جمعے سے پاکستان، افغانستان کی سرحد کو سپین بولدک کے مقام پر ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا ہے۔
طالبان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ جب تک پاکستان ایسے افغان پناہ گزینوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، تب تک یہ سرحد بند رہے گی۔
اس حوالے سے افغان طالبان کے قندھار کے کمشنر حاجی وفا کی جانب سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا ہے جس میں سرحد کی بندش کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ آج جمعے کے روز سے سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد پاکستان اور افغانستان آنے جانے والے تمام افراد کے لیے بند کی جاتی ہے۔
سرحدی بندش کے حوالے سے طالبان کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان ان افغان پناہ گزینوں کے لیے سرحد نہیں کھول دیتا جن کے پاس مہاجر کارڈ یا تذکرہ (سفری اجازت نامہ) موجود ہو تب تک سرحد کو نہیں کھولا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صبح سے شام تک بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین سرحد پر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب پاکستان کی جانب جانے والا راستہ کھولا جاتا ہے تاکہ وہ پاکستان جا سکیں۔‘
پاک افغان سرحد کچھ عرصے سے لوگوں کے آمدو رفت کے لیے بند ہے صرف تجارتی سامان کی اجازت ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ چمن اور سپین بولدک کے دمریان سرحد چند گھنٹوں کے لیے عام لوگوں کی آمدو رفت کے لیے کھولی جاتی ہے۔
افغان طالبان نے اب اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد آمد و رفت کے علاوہ تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں اور تجاری سامان کے لیے بھی بند رہے گی۔
بی بی سی کے کے مطابق افغان طالبان کے افغانستان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطہ کیاگیا تو انھوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرحد بند ہے اور اس کے لیے انھوں نے کوشش کی کہ پاکستان کی جانب سے سرحد کھول دی جائے کیونکہ ’پاکستان کی جانب سے صرف تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے اور اس کے لیے بڑی تعداد میں لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں جن میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہوتے ہیں اور اکثر علاج کی غرض سے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جب تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے تو اس میں اکثر لوگوں کو واپس کر دیا جاتا ہے کہ کارڈ صحیح نہیں ہے اور کاغذات مکمل نہیں ہیں اس لیے مجبوراً سرحد بند کر دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
سپین بولدک میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب بھی پاکستان کی جانب سے سرحد مکمل طور پر کھول دی جائے گی تو اس کے بعد افغان طالبان کے کمشنر کی جانب سے سرحد کھولنے کا اعلان کیا جائے گا۔
چمن پر باب دوستی کے ساتھ افغانستان کے علاقے ویش منڈی سے جو تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں ان میں یہ نظر آ رہا ہے کہ افغانستان کی طرف بڑے بڑے بلاک رکھ کر باب دوستی کو بند کیا گیا ہے۔
ان تصاویر میں وہ کرین بھی نظر آ رہی ہے جس کی مد دسے ان بڑے بڑے بلاکس کو باب دوستی کے ساتھ رکھا جا رہا ہے۔
ویش منڈی اور اس کے بعد سپین بولدک کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے اس علاقے سے سرحد کو بند کرنے کا یہ پہلا اقدام ہے۔
اس سلسلے میں چمن کے ڈپٹی کمشنر جمعداد مندوخیل سے رابطے کے لیے ان کو متعدد بار کالز کی گئیں لیکن اُنھوں نے کال وصول نہیں کی۔
جوائنٹ پاکستان افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر عمران خان کاکڑ نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کہ افغانستان کی جانب سے طالبان نے باب دوستی کو بند کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف چمن سے پیدل آمد و رفت کا سلسلہ بند ہو گیا ہے بلکہ تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی بند ہو گئی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ ‘افغان طالبان کی جانب اس اقدام پر ہم نے فوری طور پر ڈپٹی کمشنر کے علاوہ سرحدی امور سے متعلق جو دیگر حکام ہیں ان سے رابطہ کیا ہے۔ ہم نے اُنھیں بتایا ہے کہ وہ سرحد پار لوگوں سے بات کریں تاکہ تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہو سکے۔’
ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش سے تاجروں کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
‘تاجروں کا جو مال ہے ان میں فروٹ اور سبزیاں بھی ہوتی ہیں۔ جن کا ایک دن ہوتا ہے اور اگر اس کو آپ نے بغیر کولنگ کے بہت دیر کے لیے رکھ دیا تو وہ خراب ہوجاتے ہیں۔’
عمران کاکڑ کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش تاجروں کے لیے بہت تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ اس سے قبل جب کووڈ کے باعث سرحد کو بند کیا گیا تو تاجر برادری کو بہت زیادہ مشکلات اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اب عید پر بھی چمن سے باب دوستی سے تجارتی سرگرمیاں بند رہیں لیکن اب ایک مرتبہ پھر سرحد کی بندش سے تاجروں میں ایک مرتبہ پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اُنھیں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ اس معاملے پر سرحد پار متعلقہ حکام سے بات کریں گے لیکن اس کے طریقہ کار میں وقت لگتا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تاجروں کو نقصان سے بچانے کے لیے سرحد کو جلد سے جلد کھولا جائے۔
بلوچستان کے مقامی صحافی شہزادہ ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان سے افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں اور وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان ویش منڈی طورخم کی طرح ایک اہم گزرگاہ ہے۔
طورخم کی طرح یہاں سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان روزانہ لوگوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کراچی سے افغانستان کے لیے گاڑیاں اور دوسرے غیر ملکی اشیا آتی ہیں، ان کو بارڈر کراس کروانے کے بعد ویش منڈی میں رکھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منڈی کے باعث بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے روزانہ سینکڑوں پاکستانی تاجر اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی بھی آمد و رفت ہوتی ہے۔