دوحہ میں افغان حکومت و طالبان مابین مذاکرات پھر سے شروع

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہفتے سے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

دوحہ میں ہونے والے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں کہ جب افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے دوران پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کافی عرصے سے قطر کے دارالحکومت میں جاری رہے ہیں تاہم طالبان کے افغانستان کے متعدد علاقوں پر قبضے کیے جانے کے بعد ان مذاکرات میں پیش رفت کم ہوتی گئی ہے۔

وائس آف امریکہ اپنی افغان سروس کے مطابق بتایا ہے کہ افغان حکومتی وفد کی سربراہ عبداللہ عبداللہ اور طالبان وفد کی قیادت کرنے والے ملا عبدالغنی بردار کے درمیان ہفتے کی صبح دوحہ میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں افغان قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ تمام کوششوں کا مقصد افغانستان میں جاری جنگ کا خاتمہ، تنازعے کا سیاسی حل اور افغان عوام کے مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل ہونا چاہیے۔

دوسری طرف طالبان کے نائب سربراہ عبدالغنی بردار کا شرکا سے کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باوجود ایک امید ابھی باقی ہے اور وہ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ملا عبدالغنی برادر کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی سالمیت کے لیے ایک مرکزی اور آزاد اسلامی نظام کی ضرورت ہے اور اس کے حصول کے لیے ذاتی مقاصد کو نظر انداز کرنا چاہیے۔

افغان فریقین کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق ملا عبد الغنی بردار کا کہنا تھا کہ افغانستان تمام افغانیوں کے لیے مشترکہ گھر ہے اور اگر انہیں مشترکہ مقاصد حاصل کرنا ہیں تو انہیں تفصیلات کو نظر انداز کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اعتماد کی کمی کو ختم کرنا چاہیے اور قوم کے اتحاد کے لیے کوششیں کرنی چاہیے۔

طالبان اور افغان حکام کے درمیان ملاقات ہفتے کی صبح دوحہ کے مقامی وقت 10 بجے شروع ہوئی۔

دوسری طرف امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی مشیر زلمے خلیل زاد پُر امید ہیں کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان عید الاضحٰی کے موقع پر جنگ بندی ہو گی۔

طالبان سے مذاکرات کے لیے افغان وفد میں متعدد اعلیٰ حکومتی شخصیات سمیت سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں جو جمعے کی شام دوحہ پہنچے تھے۔

دوحہ میں افغان مذاکراتی وفد کی ترجمان ناجیہ انوری کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کا وفد طالبان سے اہم بات چیت کے لیے دوحہ میں موجود ہے۔ تاکہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھا جا سکے۔

ناجیہ انوری کا مزید کہنا تھا کہ وہ پر امید ہیں کہ فریقین مذاکرات میں تیزی لائیں گے تا کہ فریقین ایک نتیجے پر پہنچ سکیں اور افغانستان میں دیر پا امن قائم ہو سکے۔

دوسری جانب طالبان نے افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے آخری مرحلے میں فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے ملک کے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment