سابق صدر پاکستان ممنون حسین طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں اور اہل خانہ کے مطابق سابق صدر ممنون حسین بدھ کو خالق حقیقی سے جاملے، وہ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل چوہدری طارق کا کہنا تھا کہ انہیں فروری 2020 میں کینسر تشخیص ہوا تھا اور وہ زیر علاج تھے، چند روز قبل انہیں کراچی کے نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگئے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق صدر نے بیوہ اور تین بچوں کو سوگوار چھوڑا، ان کے بیٹے سلمان حسین خاندانی کاروبار دیکھتے ہیں جبکہ عدنان حسین اور ارسلان حسین ملازمت کرتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے ممنون حسین ستمبر 2013 میں پاکستان کے 12 ویں صدر مملکت منتخب ہوئے تھے اور ستمبر 2018 میں اپنے منصب سے سبکدوش ہوگئے تھے۔
ممنون حسین سے قبل 2013 میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے جبکہ ان کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عارف علوی 2018 میں 5 سال کے لیے 13 ویں صدر منتخب ہوگئے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ممنون حسین فروٹ کے برآمد کے کاروبار سے وابستہ رہے جبکہ 1960 سے سیاست میں حصہ لے رہے تھے اور بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے فعال رکن بنے۔
ممنون حسین جون 1999 میں مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کے دوران سندھ کے گورنر مقرر ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد اکتوبر 1999 میں وہ گورنر سندھ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، 2002 میں کراچی کے حلقہ این اے-250 سے قومی اسمبلی کے لیے انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن کامیابی نہیں ملی۔
انہوں نے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، جو غیر جانب دار صدر بننے کے لیے ایک علامتی فیصلہ تھا۔
ممنون حسین 1940 میں متحدہ ہندوستان کے شہر آگرہ میں 1940 میں پیدا ہوئے اور 1947 میں ان کے والدین نے پاکستان ہجرت کی اور وہ ان کے ساتھ پاکستان آگئے تھے۔
سابق صدر کراچی کے معروف تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) سے فارغ التحصیل تھے۔