شہید نواب بگٹی کی اہلیہ پر تشدد کیس میں عمران خان کے بھانجے کی وکالت کالائسنس معطل

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پنجاب بار کونسل (پی بی سی)نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان خان نیازی کی جانب سے احاطہ عدالت میں سابق گورنر بلوچستان شہیدنواب اکبر خان بگٹی کی اہلیہ شہزادی نرگس اور دیگر دیگر 4 افراد پر تشدد کے معاملے پر وکالت کا لائسنس معطل کردیاہے۔

پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد اقبال نے شہزادی نرگس کے وکیل محمد ایاز بٹ ایڈووکیٹ کی درخواست پر موقف سننے کے بعد فیصلہ کرتے ہوئے حسان نیازی کے خلاف کارروائی کی۔

وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق حسان نیازی کے خلاف شکایات پر ان کا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے معاملہ مزید کارروائی کے لیے پنجاب بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

پنجاب بار کونسل نے حسان نیازی سے 17 جولائی کو مزید جواب طلب کر لیا ہے جہاں ایگزیکٹو کمیٹی ان کا مؤقف سنے گی۔

قبل ازیں محمد ایاز بٹ ایڈووکیٹ نے حسان نیازی کے خلاف کارروائی کے لیے پنجاب بار کونسل کو درخواست دی تھی اور کہا تھا کہ حسان نیازی ایڈووکیٹ نے ساتھی وکلا کے ہمراہ مجھے اور میری مؤکلہ پر تشدد کیا۔

وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی نے پنجاب بار کونسل کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے سنے بغیر یک طرفہ مؤقف پر لائسنس معطل کردیا گیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں حسان نیازی نے کہا کہ‘شاہزوار بگٹی کے خلاف توہین کے کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے میرے اوپر شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ‘پنجاب بار کونسل نے مجھے سنے بغیر لائسنس معطل کردیا ہے اور 5 روز قبل انہوں نے میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کرادی تھی’۔

حسان نیازی نے کہا کہ‘ان شااللہ! میں پیچھے نہیں ہٹوں گا’۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سابق گورنر بلوچستان شہیدنواب اکبر خان بگٹی کی اہلیہ شہزادی نرگس کی مدعیت میں وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت چار دیگر ملزمان کے خلاف اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں شہزادی نرگس نے مؤقف اپنایا کہ حسان نیازی اور ان کے ساتھیوں نے وکیل کی موجودگی میں ان سے بدتمیزی کی اور پھر جان لینے کی غرض سے ان کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایف آئی اے لاہور کی جانب سے درج کیے گئے جعلی مقدمے میں ضمانت کے لیے عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔

شہزادی نرگس نے کہا تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے پہلے ان کا حسان نیازی کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد ملزم نے ان سے بدتمیزی کی۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ اس موقع پر وکلا نے مداخلت کی تو ملزم حسان نیازی نے اپنے دوستوں کے ہمراہ احاطہ عدالت میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے پولیس سے سیکورٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہیں کیونکہ ملزم کا ماضی اس طرح کے واقعات سے بھرا ہوا ہے اور حسان نیازی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی پر حملے کا مرکزی ملزم ہے۔

حسان نیازی کے خلاف درج مقدمے میں اقدام قتل،خواتین سے بدتمیزی کرنے اور دھمکانے سمیت چھ دفعات شامل کی گئی ہیں۔

بعد ازاں 10 جولائی کو وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کی عبوری ضمانت منظور ہو گئی تھی۔

حسان نیازی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے لاہور کی سیشن عدالت میں درخواست ضمانت جمع کروائی تھی جس پر عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 19 جولائی تک منظور کرلی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے حقائق کے برعکس ان پر مقدمہ درج کیا، وہ تفتیش کا حصہ بننا چاہتے ہیں لہٰذا عدالت عبوری ضمانت کی استدعا منظور کرے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment