ڈاکٹر دین جان بلوچ | ڈاکٹر جلال بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تو غیر فطری ریاست کے جبری قبضے کے بعد ہی شروع ہوا لیکن گزشتہ بیس برسوں سے اس غیر آئینی و غیر انسانی عمل میں شدت دیکھنے میں آیا ہے۔ بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں کی تعداد کے حوالے سے بلوچ اسیران کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ پچاس ہزارسے زائد افراد اس انسانی بحران کا شکار ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد میں سے پچیس فیصد سے زائد بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں ان میں بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں لاوارث سمجھ کر دفنا دیا گیا ہے یا اجتماعی قبروں کی نظر کیا جاچکا ہے۔ اس ظلم وبربریت نے بلوچ سماج پہ بری طرح سے نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایک ایسے سماج میں جہاں کم و بیش ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اس انسانی المیے سے دوچار ہوتو ان پہ اس قسم کے اثرات کا مشاہدہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔جن میں ایک خاندان ڈاکٹر دین جان بلوچ کا بھی ہے جس کی بیٹیاں سمی اور مہلب گزشتہ بارہ برسوں سے مسلسل اپنے والد کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں، اس سفر میں انہوں نے کس کرب کا سامنا کیا ہے اسے بیان کرنا شاید ممکن نہ ہو کہ دوکمسن بچیاں تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں اور موسموں امتیاز کیے بغیر وہ اسیران کی بازیابی کے لیے کمربستہ ہیں یہ یقیناً تاریخ میں یاد رکھا جائے گا کہ ایک خاندان کی دو بیٹیاں ایک جابر ریاست کے خلاف کس دیدہ دلیری سے منزل کی جانب روبہ سفر تھے۔ ایسی ہستیاں ہوتی ہیں جن کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل بن جاتے ہیں۔

پاکستانی عسکری اداروں کی جانب سے جب یہ سلسلہ شدت اختیار کرگیا تو لوگوں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد شروع کیا، جس کا آغاز غالباً 2006ء میں کوئٹہ سے ہوا جہاں متاثرین نے اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے احتجاجی کیمپ قائم کیا جس میں ایک بڑی تعدا دخواتین اور بچوں کی تھیں۔پندرہ سال قبل شروع ہونے والااحتجاج ہنوز جاری ہے، ازبعد جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے2009ء میں جداگانہ تنظیم ”وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز“ کے نام سے قائم کیا جو آج تک تسلسل کے ساتھ نہ صرف کوئٹہ میں احتجاج کررہی ہے بلکہ اس تنظیم کے کارکنان اور متاثرہ خاندانوں نے پاکستان کے دیگر شہروں جن میں کراچی اور اسلام آباد شامل ہیں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک تک کی یاترا بھی کیا۔

بالا سطور میں سمی اور مہلب کا ذکر ہوا تو انہوں نے جب احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تو غالباً اس وقت مہلب آٹھ، نو سال کی بچی تھی اور سمی کی عمر بارہ برس۔ اپنے والد ڈاکٹر دین جان کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بعد انہوں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور گزشتہ بارہ برسوں سے وہ مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے وہ تمام در کھٹکھٹائیں جو بااختیار تصور کیے جاتے ہیں لیکن ان کی یہ کوشش تا دم تحریر کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر دین جان بلوچ بلوچ نیشنل مومنٹ کے سینٹرل کمیٹی کا ممبر تھا۔ جنہیں 28 جون2009ء کو ضلع خضدار کے علاقے ”اورناچ“ سے دورانِ ڈیوٹی پاکستانی اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

ڈاکٹر دین بلوچ کاجنم 5 مئی1969ء کو بلوچستان کے علاقہ مشکے” نلی ”کے رہائشی قادر بخش کے گھرہوا۔ ڈاکٹر دین جان بلوچ نے ابتدائی تعلیم بھی اپنے آبائی علاقے میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول مشکے نلی سے حاصل کیا۔ سیکنڈری کے امتحانات انہوں نے مشکے کے علاقے گجر میں قائم ہائی سکول سے پاس کیا۔میٹرک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد خضدار کا رخ کیا جہاں گورنمنٹ ڈگری کالج خضدار سے سے ایف ایس سی پری میڈیکل کے امتحانات میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ درو تدریس کے شعبے سے وابسطہ رہا ۔ لیکن مزید تعلیم کے حصول کے جنون نے انہیں بولان میڈیکل کالج کی جانب رختِ سفر باندھنے پہ مجبور کیا تاکہ مسیحا بن کر قو م کی مزید خدمت کرسکے۔اور 2000ء میں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بحیثیت میڈیکل آفیسر تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس دوران ان کی پہلی تعیناتی آبائی علاقے مشکے میں ہوا، ابھی انہیں مشکے میں فرائض سرانجام دیتے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ریاست اور اس کے گماشتوں جن میں سرفہرست علی حیدر محمد حسنی کا نام ہے، آزادی پسند رہنما اسلم گچکی کو شہید کیا، یہ بات شنید میں آیا کہ شہید اسلم جان گچکی کا بیان ڈاکٹر دین جان نے لیا تھا اور اسی بنیاد پہ ڈاکٹر دین جان نے علی حیدر کے خلاف عدالت میں بیان بھی دیا جس کی وجہ سے علی حیدر کچھ عرصہ جیل کی سلاخوں کی ہوا بھی کھاتا رہا۔ علی حیدر جو براہ راست اسلم گچکی کی شہادت میں ملوث تھا لیکن ریاستی آشیرباد حاصل ہونے کی وجہ سے جلد ان کی رہائی ممکن ہوئی، اس دوران علی حیدر نے ڈاکٹر دین جان کو راستے سے ہٹانے کامذموم ارادہ بھی کیا لیکن ڈاکٹر دین جان بلاخوف و خطر اپنا مسیحائی فریضہ نبھاتا رہا۔ مشکے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ وڈھ میں بھی فرائض سرانجام دیے اورجبری طور پر لاپتہ ہوتے وہ ضلع خضدار کے علاقے اورناچ میں تعینات تھا کہ ریاستی اداروں نے دھاوا بول کر انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا۔

ڈاکٹر دین جان بلوچ نہ صرف ایک مسیحا تھا بلکہ وہ ایک مدبر سیاستدان بھی ثابت ہوا، سیاسی رموز پہ مکمل دسترس حاصل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے زمانہ طالبعلمی سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا جس کے لیے انہوں نے بلوچ طلبا تنظیم (BSO)کا انتخاب کیا اور زمانہ طالب علمی تک وہ اسی تنظیم کے ساتھ منسلک رہا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی سیاست کا پہلا دور مکمل ہوچکا تھا، وہ چونکہ دور طالبعلمی میں بھی سیاسی میدان میں کافی سرگرم تھا اسی لیے انہوں نے 2002ء میں بلوچستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کیا لیکن وہاں آپ کی نظریاتی سوچ نے آپ کو جلد اس جماعت سے الگ ہونے پہ اکسایا۔ جب شہید غلام محمد بلوچ نے ڈاکٹر مالک اور اس کے حواریوں سے ناطہ توڑتے ہوئے قومی انقلابی پارٹی تشکیل دیا تو آپ ان پہلے کارکنان میں سے تھے جنہوں نے شہید غلام محمد کی آواز پہ لبیک کہا، اب آپ کو آپ کی منزل مل چکی تھی لہذا آپ نے پارٹی کو فعال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کا یہ متحرک کردار ہی تھا جس کی وجہ سے کراچی میں منعقد ہونے والے کونسل سیشن میں آپ کا انتخاب بحیثیت ممبر سینٹرل کمیٹی ہوا، اور لاپتہ ہونے تک آپ اسی عہدے پہ فائز رہے۔

ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کو آج بارہ(12) سال کا عرصہ بیت چکا ہے، ان بارہ برسوں میں اس کے خاندان کے افراد بالخصوص ان کی بیٹیوں سمی اور مہلب کی جہد مسلسل جاری ہے، اس دوران انہوں نے نہ صرف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کیں بلکہ انسانی حقوق کے اداروں سمیت ریاست کے عدالتوں کے دروازوں پہ مسلسل دستک بھی دیتی رہیں۔ ان کے شدید احتجاج کے باوجود بھی ڈاکٹر دین جان کو ریاست کے خفیہ ادارے منظر عام نہیں لا رہے۔

جیسے بالا سطور میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ قابض ریاست کا یہ مذموم کھیل (بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا)نیا نہیں بلکہ ایک تیز ترین لہر ستر کی دہائی میں جس وقت ذولفقار علی بھٹو اس غیر فطری ریاست کے کٹ پتلی وزیراعظم تھے دیکھنے میں آیا جہاں بلوچستان کے مختلف علاقوں بالخصوص کوہستان مری جو اس وقت قومی تحریک کا مرکز سمجھا جاتاتھا وہاں سے ہزاروں بلوچ فرزند خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں اس اذیت سے دوچار ہوئے۔ حالیہ دور میں غیر فطری ریاست کا یہ عمل ایک انسانی بحران کی صورت اختیار کرچکا ہے جہاں مقبوضہ بلوچستان سمیت کراچی سے پچاس ہزار کے قریب بلوچ فرزند اس غیر انسانی عمل کا نشانہ بن چکے ہیں جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایک ایسے زمانے میں جس میں انسان ترقی کے ہمالیہ سرکررہا ہو اور روز انسانی ترقی میں نت نئی تخلیقات ہورہی ہو، ایسے دور میں اس انسانی بحران کو کیا نام دیا جاسکتا ہے جس میں ایک قوم کو بزورشمشیر نہ صرف غلام بنایا گیا ہو بلکہ اس کے فرزندوں کو ایسی تاریکیوں کی نظر کیا جارہا ہو جہاں کسی کی رسائی ممکن نہ ہو۔بلوچستان میں ہونے والے ریاستی مظالم پہ نظر ڈالی جائے تو دنیا کی تاریخ میں کئی بھی ایسی کوئی مثال موجود نہیں جہاں کسی قوم کے پچاس ہزار سے زائد فرزندوں کو ایسی تاریک کھوٹڑیوں کی نظر کیا جائے جن میں نہ روشنی کا گزر ہو اور نہ وہاں سے کسی کی آواز کسی کو سنائی دے۔

مظالم کی یہ داستانیں ہمیں بلوچستان کے ہر کوچہ و گدان میں مشترک نظرآتا ہے جہاں کوئی خاندان ایسا نہیں جو اس اذیت سے دوچارنہ ہو، اس کے باوجود بھی عالمی اداروں اور خودکو مہذب کہنے والے ممالک کا خاموش کردار ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں جہاں اس غیر انسانی عمل کو روکنے کے لیے قوانین بھی بن چکے ہیں تو اس ظلم و بربریت کو روکنے کے لیے ان اداروں اور ممالک کی جانب سے عملی کردار ادا کرنے میں پس و پیش آخر کیوں؟۔ ان ممالک اور اداروں کا خاموش تماشائی والا یہ عمل ہی ہے جس کی وجہ سے اس انسانی بحران میں آئے روز شدت آرہی ہے اور اگر سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو آنے والے دنوں میں خطے کے مقامی باشندوں کا انجام ایورجن یا ریڈ انڈینز سے بھی بدتر ہوگی۔

***

Share This Article
Leave a Comment