ضلع کیچ:کولواہ میں لڑکی کو جنسی ہراساں کرنے پر گاؤں والوں نے پاکستانی فوجی کو گنجا کردیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کولواہ کے علاقے مادگے قلات میں پاکستانی فوجی اہلکار نے ایک 18 سالہ لڑکی کو جنسی ہراساں کیا، اس سے زبردستی کی کوشش کی اور نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کو کہا جس پر لڑکی نے شور مچا دیا۔ لڑکی کی طرف سے مزاحمت اور شور مچانے پر اہل محلہ نے جمع ہوکر فوجی اہلکار کو دھر لیا اور بطور سزا اس کو گنجا کردیا۔

بلوچستان میں فوجی اہلکاروں کی طرف سے خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں جو رابطے کے ذرائع نہ ہونے اور لوگوں کی خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہوپھاتے۔رواں سال اپریل کو ہوشاپ میں فوجی چوکی پر تعینات اہلکاروں نے 11 سالہ بچہ امیرمراد کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔20 مئی 2021 کو شہید نور جان سکنہ ہارون ڈن ضلع آواران نے فوجی جبر کے ہاتھوں مجبور ہوکر خودکشی کی کیونکہ پاکستانی فوج نے ان سے اپنی بیٹی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ضلع پنجگور کے تحصیل کیلکورمیں پاکستانی فوج نے جون کے مہینے میں اپنی جارحانہ کارروائیوں کے دوران درجنوں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد 9 گاؤں کے افراد علاقہ چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔اس دوران ایک لڑکے کے والد پیری ولد احمد کو مزاحمت پر پاکستانی فوجی اہلکاروں نے گولی مار کر قتل کردیا۔
مقبوضہ بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ اور انسانی حقوق کے اداروں کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ریاستی فورسز کی جنگی جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment