طالبان کے ساتھ معاہدے کا راستہ کھٹن اور ناہموار ہو گا، امریکی وزیر خارجہ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کا راستہ کھٹن اور ناہموار ہو گا۔ کسی کو بھی یہ غلط فہمی نہیں ہے کہ یہ مذاکرات مشکل نہیں ہوں گے۔’

امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کے پروگرام ‘فیس دی نیشن’ میں انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ایک تاریخی دن تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں باضابطہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز بھی ہوگا جوکہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔’

انھوں نے افغانستان میں جنگ بندی کے معاہدے اور امن کوششوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ راستہ کھٹن اور ناہموار ہو گا۔ کسی کو بھی یہ غلط فہمی نہیں ہے کہ یہ مذاکرات مشکل نہیں ہوں گے۔ لیکن تقریبًا دو دہائیوں کے دوران پہلی بار یہ مذاکرات افغان عوام میں ہوں گے اور ان مذاکرات کے لیے یہ مناسب جگہ ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ روز افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ نہیں کیا، جیسا کہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کہا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی یہ رہائی ’بات چیت کی شرط نہیں ہو سکتی‘ لیکن مذاکرات کا حصہ ضرور ہو سکتی ہے۔

سنیچر کو قطر میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے مطابق 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان کے زیر حراست ایک ہزار قیدیوں کو 10 مارچ تک رہا کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سنیچر کو امریکہ اور افغان طالبان نے طویل عرصے سے جاری امن مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت افغانستان میں گذشتہ 18 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مایئک پومپیو نے کہا ہے کہ سنیچر کو جاری ہونے والے امریکی طالبان معاہدے کی عوامی دستاویز کے ساتھ ساتھ، ‘عملدرآمد کرنے والے دو عناصر بھی فراہم کیے جائیں گے جو کہ خفیہ ہیں۔ یہ فوجی نفاذ کے دستاویزات ہیں جو ہمارے فوجیوں، ملاحوں، ایئر مین اور میرینز کی حفاظت کے لیے اہم ہیں۔ امریکی کانگریس کا ہر رکن کو ان دستاویزات کو دیکھنے کا موقع ملے گا، یہ انتہائی خفیہ اور قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ اوریہ کسی ذیلی معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔‘

انھوں نے اوبامہ انتظامیہ کے دور حکومت میں ایران ایٹمی معاہدے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک مکمل شفاف معاہدہ ہیں، یہ ماضی کہ ان معاہدوں کی طرح نہیں جن میں امریکہ کو کبھی ان کی دستاویزات دیکھنے کا موقع نہیں ملا جن پر میں شکایت کرتا رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم امریکہ کو ہر طرح سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے افغانستان میں موجود تمام فریقوں چاہیے طالبان ہوں یا سکیورٹی فورسز سے کہا ہے کہ وہ پر تشدد واقعات میں کمی لائیں۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے سے امریکی خون اور پیسہ افغان جنگ پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ہم نائن الیون کے بعد افغانستان گئے تھے۔ اس دن کی تکلیف مجھ سے زیادہ کوئی نہیں محسوس کرسکتا لیکن یہ وہ اور وقت تھا لیکن اب طالبان جانتے ہیں کہ فیصلہ کا وقت آگیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے گذشتہ دو برسوں میں ہمیں طالبان سے لڑائی لڑنے کی اجازت دی اور ہم نے ایسا ہی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں (طالبان) نے پہلی بار اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تاریخی حلیف القاعدہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے لیے تیار ہیں جس نے امریکہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف امریکہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ دیکھ سکتے ہیں، دستاویز پڑھ سکتے ہیں کہ طالبان اب اپنے پرانے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے واقعات نہیں ہونے دیں گے۔ یہ اس لحاظ سے تاریخی ہے اور کسی کو بھی ٹرمپ انتظامیہ کی صلاحیت پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ آپ انسداد دہشت گردی کے خلاف ہمارے کام کو دیکھ سکتے ہیں چاہے وہ البغدادی کی موت ہو یا جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت۔

صدر ٹرمپ ایک ایسے صدر ہیں جو امریکی عوام کے دفاع اور حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم ہر اس جگہ پر یہ ہی کام کریں گے جہاں ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کرتے ہیں، خواہ وہ افغانستان ہو یا کوئی اور جگہ۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا میں وقت لگ سکتا ہے اور یہ انخلا طالبان کی جانب سے چند شرائط پر عملدرآمد کرنے سے مشروط ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہم اس بارے میں قیاس آرائیاں نہیں کر سکتے کہ یہ واقعتاً کیا ہوگا لیکن معاہدے میں طالبان کی جانب سے مفصل طور پر متعدد وعدے کیے گئے ہیں جو اس سے پیدا ہونے والے پرتشدد واقعات پر بات کرتا ہے اور اس پر غور کرتا ہے کہ اس کی نوعیت کیا ہو گی۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے مستقل قریب میں طالبان سے ملاقات کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ کب اور کہاں ملاقات ہو گی لیکن میں بہت پر امید ہوں کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ افغانستان میں ہر کوئی یہ سمجھے کہ امریکہ ان مذاکرات کی عمل میں بہت سنجیدہ ہے۔ ہم بہت طویل عرصے سے اس جنگ کو لڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اچھے مستقبل کی امید ہے اور ہم نے اس کے لیے جو کام کیا ہے طالبان اسے جانتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اس عمل جس کا پہلا قدم گذشتہ روز دوحا میں اٹھایا گیا ہے کو درست سمت میں لے جانیکے لیے متحرک طور پر ہماری مدد کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی عوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کاغذ پر الفاظ نہیں لینے جا رہے ہیں۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا طالبان اپنے وعدوں پر قائم رہنے کو تیار ہیں یا نہیں۔‘

’بش انتظامیہ اور اوبامہ انتظامیہ دونوں نے ماضی میں ایسے لفظی معاہدے کرنے کی کوشش کی تھی کہ جو صرف کاغذات پر تھے اور جن پر وہ یہ کہتے تھے کہ طالبان القائدہ سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ لیکن آج ہم نے یہ معاہدہ کر لیا ہے اور اب ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا طالبان ہماری توقعات کے مطابق اپنے وعدے پورے کرتے ہیں۔‘

Share This Article
Leave a Comment