بلوچستان کے دو مختلف اضلاع سے پاکستانی فورسز نے چار افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔ ان میں سے ایک کو فورسز نے پنجگور کے علاقے پروم سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا جبکہ تین کو ضلع خضدار سے لاپتہ کیا گیا ہے۔
پروم سے حراست بعد لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت محمود ولد ہاشم کے نام سے ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق محمود بنیادی طور پر پنجگور کے علاقے پروم کا رہائشی ہے روز گاری کے باعث اپنے آبائی علاقے سے ہجرت کرکے مغربی بلوچستان کے شہر سراوان میں اس وقت مقیم ہے اور وہ تیل کے کاروبار سے بھی منسلک ہے اور فورسز نے اسے اس وقت حراست میں لے کر لاپتہ کردیا جب وہ تیل لے کر پنجگور جارہا تھا۔
خیال رہے کہ انکو کو فورسز نے اس سے قبل 16 مارچ 2021 کو بھی حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا اور بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا گیا اور آج ایک بار پھر اسے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع خضدار اور قلات سے پاکستانی فورسز نے تین نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
خضدار کے علاقے زہری سے تعلق رکھنے والے تینوں نوجوانوں کو گذشتہ روز فورسز نے لاپتہ کیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یاسر ایوب ولد محمد ایوب کو زہری کے علاقے تلاوان سے گذشتہ روز پاکستانی فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔فورسز اہلکاروں نے گھر میں موجود خواتین اور دیگر افراد کو زدوکوب کیا جبکہ گھر میں توڑ پھوڑ کی۔
گذشتہ روز ہی زہری کے رہائشی دو نوجوانوں بہادر خان ولد حیدر خان اور غلام قادر ولد حضور بخش کو قلات سے زہری کی طرف جاتے ہوئے کپوتو کے مقام پر سی ٹی ڈی اہلکاروں فائرنگ کرکے زخمی حالت میں گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے۔
سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ افراد مسلح تھے جنہیں فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کیا گیا تاہم علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ نوجوان غیر مسلح تھے جنہیں اہلکاروں نے دیکھتے ہی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔
واضح رہے رواں سال مارچ کے مہینے میں سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ مستونگ میں ہونے والے ایک مقابلے میں بلوچ مسلح تنظیم کے پانچ ارکان مارے گئے ہیں تاہم بعدازاں مذکورہ افراد کے لواحقین نے سی ٹی ڈی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ افراد پہلے سے زیرحراست تھے۔