جھاؤآپریشن جاری: متعددافرادلاپتہ،گھرنذرآتش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جھاؤ کے پہاڑی سلسلے سورگر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے آپریشن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق کچھ فوجی دستوں کے واپسی کاعمل شروع ہوچکاہے لیکن ابھی تک پہاڑی سلسلے میں پاکستان فوج کے موجودگی کی اطلاعات بھی ہیں۔

اس آپریشن میں سورگرکے اکثر لوگوں کو حراست میں لے کر فوجی کیمپوں میں منتقل کیاگیا،جن کی تعداد درجنوں میں ہے،تاہم تمام افراد کی شناخت ممکن نہ ہوپائی،فوج نے شہید شاہ دوست کے بیٹوں سمیت متعددا فراد کوگرفتارکرنے کے علاوہ ان کی گھروں کو نذرآتش کردیاہے،مال مویشی لوٹ لئے ہیں۔

ایک ہفتے قبل جھاؤ کے مختلف اطراف گریشہ،نال،اورناچ اور اَرہ سے فوج بڑی تعداد میں جھاؤ میں داخل ہوئی تھی، جھاؤ اور سورگر کے پہاڑی سلسلے کو مکمل محاصرے میں لے کر کاروائی شروع کی گئی تھی،زمینی فوج کو ہیلی کاپٹروں کی کمک حاصل تھی،دودن قبل جیٹ طیاروں نے دومختلف مقامات پر بمباری کی تھی تاہم بمباری سے ہوئے نقصانات کی تفصیل معلوم نہ ہوسکی۔

اس آپریشن میں حراست میں لے کر فوجی کیمپوں میں منتقل کئے جانے والوں میں،سلیم ولد شہیدشاہ دوست،علی ولد محمد علی سکنہ دشتی سورگر،دادل ولد قادر، احمد ولدشیر خان جمعہ ولد ملک،خدا بخش ولد زَبر،محمد بخش ولد زبرسکنہ ترجی سورگر، نبی وارث ولد ٹکری شیر محمدسکنہ ریس ِکوراورناچ کے نام ہمیں موصول ہوئے ہیں لیکن بتایا جارہاہے فوج نے درجنوں لوگوں کو حراست میں لیاہے جبکہ فوج نے شہید شاہ دوست کے بیٹوں سمیت متعددافراد کے گھروں کو بھی نذرآتش کردیاہے اورمتعدد افراد کے مال مویشی بھی لوٹے گئے ہیں۔

آپریشن میں فوج کے ساتھ مقامی ڈیتھ سکواڈ کے لوگ بھی شامل ہیں
اطلاعات ہیں کہ آج فوج کی واپسی کا عمل شروع ہوچکاہے لیکن ابھی تک بڑی تعداد میں فوج علاقے میں موجود ہیں اوی کاپٹروں کی
پرواز وں کا سلسلہ بھی جاری ہے

یادرہے کہ سورگرکے پہاڑی سلسلے میں مالدارلوگوں کی بہت بڑی آبادی تھی لیکن اکثریت آبادی کو فوج نے جبری نقل مکانی پر مجبور کردیاتھا دوردرازعلاقوں میں چند خاندان باقی رہ گئے تھے جنہیں اس آپریشن میں نشانہ بنایا گیاہے،ان خاندانوں کی پیشہ مالداری اور باغبانی تھا لیکن ان کے ذرائع معاش چھن گئے ہیں بلکہ یہ لوگ فوجی نیزے تلے بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment