انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کی ہمشیرہ فریدہ بلوچ نے کہا کہ بھائی کی متحدہ عرب امارات کے جبری گمشدگی بعد ازاں پاکستان حوالگی اور کسی بھی عدالت میں پیش نہ کرنا ریاست پاکستان کی اپنے عدالتی نظام پر عدم اعتماد ہے،
انہوں نے تمام انسان دوستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھائی کی بحفاظت بازیابی کیلئے کردار ادا کریں.جبکہ ریلیز راشد حسین کمیٹی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے راشد حسین کی بحفاظت بازیابی کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وہ تمام ثبوت موجود ہیں کہ راشد کو متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے کہنے پر جبری طور پر لاپتہ کرکے 6 ماہ بعد غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالے کیا اور اب پاکستان نے اسے دیگر ہزاروں بلوچ فرزندوں کی طرح نامعلوم ٹارچر سیلوں میں بند کر رکھا ہے
راشد حسین کمیٹی اپریل کے مہینے میں جرمنی میں راشد حسین کی عدم بازیابی کے خلاف اپنا احتجاج و آگاہی مہم کا سلسلہ شروع کرے گا.