وائس چیئرمین کے گھر پر چھاپہ رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن اور اجتماعی سزا کا تسلسل ہے۔ بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے گومازئی میں پارٹی وائس چیئرمین غلام نبی بلوچ کے گھر پر چھاپے اور اہلخانہ پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج  کا واقعہ پارٹی رہنماؤں کے خلاف پاکستانی ریاست کے کریک ڈاؤن اوراجتماعی سزا کے تسلسل کا حصہ ہے۔ لیکن بی این ایم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔ بی این ایم رہنما کے علاوہ ملا بلال، سیٹھ پلان، مبارک، ھداداد ولد جنگی اور عبدالصمد کے گھروں پر بھی فوجی یلغار کیا گیا۔ اس دوران گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی اور قیمتی اشیا لوٹی گئیں۔ ملا بلال کے بیٹوں قیوم اور ثابت کو اٹھا کر لاپتہ کیا گیا۔ گومازی کے علاہ مند  مہیر  میں بھی اسی طرح کے آپریشنز جاری ہیں جہاں سے عبداللطیف ولد ولی داد کو پاکستانی فوج نے اغوا کرکے لاپتہ کیا ہے۔ 

 آج گومازی میں پاکستانی فوج نے پارٹی کے وائس چیئرمین غلام نبی بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارکر خواتین اور بچوں کو ہراسان کیا گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وائس چیئرمین بی این ایم غلام نبی بلوچ کے گھر پر چھاپہ پڑا ہے، بلکہ اس سے قبل کئی مرتبہ پاکستانی فوج نے ان کے گھروں پر حملہ کیا ہے۔

گومازئی میں گزشتہ تین دنوں میں کئی افراد کو پاکستانی فوج نے اٹھا کر لاپتہ کیا ہے۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہں پہلے بھی فوجی آپریشنوں کے دوران اغوا کرکے لاپتہ کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان میں خداداد ولد جنگی، صغیر ولد عبدالصمد، طارق ولد لیاقت، قیوم ولد ملا بلال، ثابت ولد ملا بلال، شاھبیک ولد داد کریم، ماجد ولد رشید، اسماعیل ولد حسین، علم ولد سلام، عبدالطیف ولد ولی داد، بلوچ ولد واحد،حمل ولد واحد شامل ہیں۔ 

 گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں ایک نسل کشی جاری ہے۔ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے قابض پاکستانی فوج گمشدگی، مارو اور پھینکو سمیت کئی بھیانک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ بی این ایم کے بانی لیڈر چیئرمین غلام محمد بلوچ اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ سمیت کئی مرکزی رہنما پاکستان کے ہاتھوں قتل، اغوا اور لاپتہ ہو چکے ہیں۔

پاکستان اس طرح کی بربریت سے بلوچ قوم کو قومی تحریک سے دستبردار کرانے کی کوشش میں ہے۔ لیکن بلوچ قومی فرزندوں کی قربانیوں اور جاری تحریک نے ثابت کیا ہے کہ بربریت سے قوموں کو اپنی جدوجہد سے پیچھے ہٹایا نہیں جاسکتا۔

Share This Article
Leave a Comment