پاکستانی فوج کی درندگی کے واقعات میں اضافہ،وادی مشکے میں ایک خاندان کے خواتین و بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی افسوسناک واقع رپورٹ۔
وادی مشکے سے ادارہ سنگر کے بیورو چیف کی ایک خاندان سے ملاقات جس میں بچیوں خواتین کے ساتھ پاکستانی فوج و انکے ڈیتھ اسکواڈ کی جنسی زیادتی کی لرزہ خیز داستان سامنے آئی ہے،۔
وادی مشکے کے علاقے کھندڈی میں مالدار حکیم بلوچ کے فیملی کو پاکستانی فوج کے ڈیتھ اسکواڈ اور فورسز کے اہلکارون نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا،مقبوضہ بلوچستان میں ایسے دل ہلادینے واقعات روز کا معمول ہیں مگر بدنامی اور بے بسی کی وجہ سے یہ واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ جنوری 2021 کے ماہ میں پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے مقامی کارندوں نے کھندڈی میں مالدار حکیم بلوچ کے گاؤں میں دھاوا بول کر نہ صرف لوٹ مار کی اور مال مویشوں کو اپنے ساتھ لے گئے بلکہ پاکستانی فوج کے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے فوج کی پشت پناہی میں خواتین و بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا،خواتین نے مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے دو کارندوں خداد داد ولد عبدالکریم محمد حسنی اور شیرا ولد احمد کو پہچانا اور مظلوم بچیوں،خواتین نے لاکھ فریاد کیے مگر ریاستی فوج کی چھتری تلے خود کو طاقت ور سمجھنے والے دھرندوں نے بلوچ ماؤں،بیٹیوں،بچیوں کی ایک نہ سنی اور انھیں زیادتی کا نشانہ بنایا،۔
واضح رہے کہ مقبوضہ بلوچستان میں ایسے دل ہلادینے واقعات اس قابض فوج اور اسکے معاون کاروں کا معمول بن چکے ہیں۔ مگر مظلوم بلوچ بے عزتی و سماجی ڈر کی وجہ سے خاموش ہے،۔
آزادی پسند رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو دنیا کے سامنے لانا چائیے اور ڈسپورا میں موجود بلوچوں کو منظم انداز سے دنیا کے سامنے پاکستانی بربریت کے ثبوتوں کو پیش کرنا چائیے،۔