ایک دل دہلانے والی رپورٹ مہ تصویر نظروں سے گذرا، ایک آٹھ سالہ بچہ پاکستان آئی ایس آئی کے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکوائڈ کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی اس بچے کی پرانی ویڈیو بھی سوشل میڈیا کی زینت بنی۔ویڈیومیں یہی بچہ بندوق اٹھاکر(والدین نے بندوق تھمادی ہے اگر بچہ خود بھی اٹھایاہواہوتاتو وہ اسے کھلونا سمجھ کر کھیل کی نیت سے لہرا رہے ہوتے ) بلوچ اور بلوچستان کے بارے آزادی کی بات کر رہے ہیں۔ یہاں ایک طرف تو ان وحشیوں پر غصہ جوش بھر اٹھاکہ وہ ایسے غیر انسانی درندگی اس وقت ہی کیوں کی جب بچہ اپنے والد کے ساتھ موجود تھے۔مانا وہ دشمن ہے وہ کسی بھی نیچ حد تک جاسکتے ہیں۔کیوں کہ ان کی ذہن سازی خود انسانی اقدار سے گری ہوئی پاکستانی فوج آئی ایس آئی اور انکے مذہبی،ملا جنت کا سبز باغ دکھاکر کرواتے ہیں۔ مگر دوسری جانب غم غصہ میں اضافہ اس بچے کے والد پر ہوا اور اس سماج پر جو غیر سطحی سوچ کے بدولت نہ صرف اس بچے کی تصویر بلکہ ویڈیو ایک کلاشکوف کے ساتھ دھڑادھڑ شیئر کرکر رہے ہیں، ایک پل کیلے نہیں سوچتے کہ یہ سوشل میڈیا ہے اس میں اعلی سوچ سے لیکر کم ظرف تک لوگ موجود ہیں۔یہاں عاقل بھی موجود ہیں جاہل بھی،انٹرنیشل اور لوکل بھی آپ کس طبقہ کیلے یہ ویڈیو شیئر کر رہے ہیں۔؟؟خیر پہلے یہاں ان لوگوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ مخبر کسے کہتے ہیں؟ وہ کیا ایسا عمل کر رہاہوتاہے کہ وہ غدار دشمن ٹھر جاتاہے اور انجام اسکی موت ہوتی ہے؟آسان الفاظ میں جواب یہی ملے گا کہ وہ سیاسی قیادت کارکن، جہد کار وں ان کے کمک کاروں کی نشاندہی نام تصویر مکمل پتہ دیکر کرواتے تھے۔ اور جہاں انکے خفیہ ٹھکانے موجود ہیں انکی نشاندہی بھی کرکے فوج ایجنسیوں کے آنکھ کان بن جاتے تھے۔ یقینا ان دلائل کے بعد عام سیدھا سادہ بندہ جس کی مخبر سے خونی رشتہ نہیں،یہی کہنے پر خوشی خوشی راضی ہوگی کہ واقعی یہ انتہائی نیچ حرکت اور قومی غداری کے مترادف عمل کر رہاتھا۔ اگر یہی حرکت ایک دوست،لیڈر،سیاسی ہم فکر ساتھی اور باپ کرے تو اسے کیا نام دیں گے؟اس کیلے بلوچی براہوئی میں تین حرف پر مشتمل لفظ ہے ہنستے ہوئے وہی استعمال کریں گے۔ یہاں اس لئے ہنستے ہیں کہ جو راض یہاں افشاں کرنے والے ہیں انکی نیت تو بری نہیں ہے۔ مگر عمل غیر ذمہدارانہ اور سطحی ہے۔باریک بینی سے اس تین حرفی لفظ کے ادائیگی کا مطلب عزت پر ہنستے ہوئے وار کرناہے جو میرے ناقص رائے میں قتل ہونے اور مخبر کہنے سے بدترین ہے۔ تو اس لئے ہمیں اپنے عزت سے خود کھلواڑ کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکر ایسے انجانے میں کرنے والے حرکتوں کو ترک کرنا ہوگا۔کیوں کہ ہم ایک آزاد ریاست کیلئے پاکستان کے قابض وحشی درندہ ریاست سے سیاسی،سماجی قلم اورہتھیار زریعے لڑ رہے ہیں۔ یعنی ہمیں ایک مہذب سماج،ذمہدار،باشعور،علم دوست اوروطن کے دفاع کے سچے سپائی کی طرح میدان میں قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔تب ہی ہم آزاد ریاست کے مالک بنیں گے اور آزاد ریاست ممکن ہوگی ۔ورنہ اس طرح غیر سطحی سوچ،ہیروازم،آزاد خیالی،اور اپنے راض دشمن کے جھولی میں اپنے احمق پن کی وجہ سے ڈالنے سے ہم کبھی بھی ایک مہذب سماج میں باشعور نہیں کہلائیں گے، نہیں دنیا مانے گی کہ ہم دشمن کے ساتھ سائنسی انداز میں لڑرہے ہیں، لڑنے کے قابل ہیں، اور آگے چل کر بہتر سماج، ذمہدارقوم کی رہنمائی کرکے انھیں تبائی سے بچاپائیں گے۔
اگر ہماری سوچ سطحی ہے تو دنیا ہمارے بارے یہی سوچ رکھتی ہے تو ٹھیک ہی سوچتی ہے۔
جب ہم اپنے زبان کنٹرول کرنے کے لائق نہیں اپنے معصوم بچوں کوخود دشمن کے کچار میں پھینک کر الٹافخر کرتے ہوں تو ایسے میں قوم یا دنیا ہم پر کیوں یقین رکھے کہ ہم آندھی اور طوفان سے مسیحا بن کر انھیں بچا پائیں گے جو خود قابل رحم اور غیر محفوظ ہیں۔
لہذا ب بھی دنیا کے مہذب ہونے کا اردراک کرتے ہوئے ہمیں اپنے ذاتی سوچ اپنی کنویں کی دنیا سے نکلنا ہوگا۔اس سوچ سے نکلنا ہوگا کہ دنیا محض کنویں کے اندر ہے جہاں میں ہوں۔ لفظ ”میں“ کے کنویں سے چھٹکارا پانے بعد ہی دنیا میں قدم رکھیں گے۔ یہ باریک بینی سے سوچنا چھائے کہ اب ہم ایک محلے میں نہیں رہ رہے ہیں،بلکہ دنیا میں رہ رہے ہیں جسے گلوبل ویلج کا نام دیاگیاہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہماری سنجیدگی غیر سنجیدگی کی راض فاش ہونے میں صرف بٹن کلک کرنے کی دیر ہے،اس کے بعد دودھ کادودھ پانی کا پانی صاف نظر آجاتاہے اور یہ بھی پتہ لگ جاتاہے کہ دنیا کتنی اورہم کتنے پانی میں ہیں۔کیا ہم اپنے معصوم بچے کے ہاتھ میں قلم کے بجائے بندوق دیکر دنیا کو اپنے باشعور یا بے شعور ہونے کا پیغام دیتے ہیں؟ یہ فیصلہ آپ پر چھوڑدیتے ہیں۔