یوم مزدور یوم مظلوم – تحریر, سائرس خلیل

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بنی نوع انسان کی تاریخ تضاد کی بنیاد پر تحریکوں اور حرکت سے بھری پڑی ہے۔ طبقات کے درمیاں یا دو قوتوں کے درمیاں لڑائی وجھگڑے ہی سماجی تاریخ کو حرکت دینے کا باعث بنے۔ معلوم انسانی تاریخ کے مطابق دو قوتیں کسی نا کسی صورت آمنے سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ دو قوتیں ظالم و مظلوم یا حاکم و محکوم جیسے الفاظ سے تعبیر کیجاتی ہیں۔جوکہ دو مختلف طبقات ہیں۔ ان طبقات کا اظہار غلامانہ عہد کے اندر آقا وغلام کی صورت میں ہوا۔غلامانہ عہد کے بطن سے پیدا ہونے والے جاگیردارنہ عہد میں یہ قوتیں جاگیردار ومزارع کی صورت ظاہر ہوئیں، اب یہی طبقات صنعتی دور کے اندر سرمایہ دار و مزدور کی صورت آمنے سامنے آئے۔انسانی سماجی تاریخ کو عہد با عہد تقسیم کرکہ دیکھا جائے یا مربوط کرکہ سمجھاجائے مگر ہمیں معلوم پڑتا ہیکہ ہر دو صورتوں میں انسان کی تاریخ حاکم و محکوم کی لڑائی سے بھری پڑی ہے۔ اور یہی حاکم و محکوم کی لڑائی ہی نئے نظام کو جنم دیتی ہے۔ ہم قریب انسانی تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ فرعون کی فرعونیت، جبر و ظلم کے خلاف حضرت موسی چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح یہ لڑائی ہر خطے کے اندر لڑئی گئی۔ بلکہ حضرت محمد بھی بے بسوں، مجبوروں و لاچاروں کی آواز بنے اور اس وقت کے حاکم طبقے یعنی عرب سردار اور دنیاکہ ظالموں و حاکموں کے خلاف لڑئے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ظالم و مظلوم کی لڑائی کربلا کے میدانوں میں بھی لڑی گئی۔ حضرت حسین ایک غیر جمہوری حکومت کے خلاف لڑ کر تا قیامت سرخ رو ہوئے۔
مزدور تحریکیں جدید صنعتی دور میں وجود میں آئی ہیں جو حاصل تاریخ میں ریاست جموں کشمیر میں سب سے پہلے چھ لاکھ مزدور و صنعت کاروں نے مل کر 29 اپریل 1865 میں ریاستی ٹیکس کہ خلاف پرامن دھرنا دے کر لڑی، مزدوروں کے سات پچاس ہزار کسانوں نے بی احتجاج کیے۔ مگر صنعت کا محکمہ سنبھالنے والے کھک راج نے اسکو اپنے گھر پر حملے کاالزام دے کر اٹھائیس افراد کو شہید کر دیا۔ یہ شال بافی اور کسان تحریک کافی مطالبات منوانے میں کامیاب رہی مگر اپنا فریضہ پورا کرنے سے پہلے کچل دی گئی۔اسی طرح یہ لڑائیاں مختلف جگہوں پر لڑی گئیں مگر ایک مشہور تحریک آٹھ گھنٹے کے نام سے 1885 کے ایک کنونشن کے بعد وجود میں آئی۔ایک دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں اس تحریک نے ان چوبیس گھنٹوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا، آٹھ گھنٹے مزدور کے کام کے لیئے، آٹھ گھنٹے آرام کے لیئے اور باقی آٹھ گھنٹے اپنی مرضی سے گزارنے کے لیئے تقسیم کیے گئے تھے۔ یہ لڑائی شکاگو کہ اندر لڑی گئی۔ اس تحریک کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور مارچ 1886 میں اس میں اڑھائی لاکھ سے زائد مزدوروں نے حصہ لیا اور ایک تاریخی احتجاج یکم مئی 1886 میں رکھ دیا گیا۔ مگر یہ لڑائی جیسے ہی یکم مئی سے دو مئی اور دو سے تین مئی کے دن میں داخل ہوئی تو حاکم وقت جو سرمایہ دار کی صورت وجود رکھتا تھا اس نے ایک منصوبہ بندی کہ تحت غلط پروپیگنڈہ کیا کہ چند پولیس والوں پر مزدوروں نے حملہ کیا ہے جسکی وجہ سے چار مزدوروں کو شہید کر دیا گیا۔ یہ الزام بعد میں ثابت بھی نہ ہوسکا مگر چار مزدوروں کی شہادت کی وجہ سے مزدوروں نے تحریک کو مزید تیز کردیا مگر لاکھوں مزدورں کو ریاستی مشینری کا استعمال کرکہ شہید کر دیا گیا۔ یہ مزدور تحریک سفید جھنڈوں کے ساتھ نکلی تھی مگر مزدور کہ خون کے ساتھ اسکو لال کر دیا گیا۔ ایک مزدور نے خون سے لت پت سفید
جھنڈے کو جو کہ خون کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا اسکو ہوا میں لہرا دیا جسکے بعد سرخ رنگ محنت کش،مزدور و مظلوم کے نشان کے طور پر سامنے آیا۔
دوستو! ہم دیکھتے ہیں کہ حاکم و محکوم، یا ظالم و مظلوم کی لڑائیاں عرب، عجم، مشرق و مغرب میں بھی لڑی گئی۔ کہیں یہ بغاوت حضرت حسین کی صورت نظر آتی ہے تو کہیں یہ بغاوت وشنو، رام کی صورت دیکھائی دیتی ہے۔ یہ بغاوتیں شاہ عنایت کی صورت بھی دیکھائی دیتی ہیں تو کہیں یہ لڑائیاں مارکس لینن، چی گویرا، ماؤ، بھگت، مقبول بٹ کی صورت بھی نظر آتی ہیں۔

یہ لڑائیاں ہر معروض میں استحصال کردہ قوتوں اور استحصال زدہ قوتوں کے درمیاں رہی ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ ان قوتوں کی شکلیں ہر معروض و عہد میں مختلف رہی ہیں۔ اسی طرح نو آبادیات میں یہ لڑائیاں بیرونی و اندرونی قوتوں کے خلاف لڑی جاتی ہیں۔ بلخصوص اگر ہم ریاست جموں کشمیر کے معروض کو پرکھتے ہوئے بات کرئیں تو ہمیں یہاں دو طاقتوں کی لڑائی نظر آتی ہے۔ایک طاقت اسلام آ باد و دہلی میں بیٹھتی ہے اور دوسری متنازعہ ریاست کے باسی ہیں۔ اب یہاں پر بنیادی تضاد بیرونی قوتیں ہیں جو دونوں اطراف ریاست جموں کشمیر کی عوام کو علاقائی لسانی و مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر رکھا ہے، کچھ ایسے ہی ہتھکنڈے ریاست پاکستان نے بھی اپنایا ہے اور یہاں پر بھی دو حصوں میں تقسیم کرکہ کشمیر و گلگت بلتستان کی جنگ چھیڑ دی۔ مزید جب بھی گلگت بلتستان اندرونی طور پر طاقتور ہونے کی طرف بڑھتا ہے تو اسے شیعہ سنی کی صورت تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

اب قبضہ گیرکے پالیسی ساز ادارے مکمل طور پر اس چیز سے آگاہ ہیں کہ عوام اگر سنجیدہ مسئلوں کو زیر غور لانے لگ گئے تو وہ اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکیں گئے اس لیئے وہ اصل مسئلہ پر سنجیدہ گفتگو نہیں بننے دیتے اور عوام کو نان ایشوز پر لگا کر انکو تقسیم کرکہ اپنا تسلط قائم رکھتے ہیں۔ اگر عوام شعور کے اس نہج پر پہنچ جائیں جہاں ہم حکمران کی طرف سے مصنوعی مسائل اور مادی و بنیادی مسائل میں فرق کرسکیں۔ اگر عوام نان ایشوز میں الجھنے کے بجائے اپنے قومی مسائل پر نظر رکھیں اور اپنے مادی وسائل پر قابض قوتوں کو پہچان لیں اور غاصب و طاقتور قوتوں کو للکار سکیں تو یقیننا یہاں کا بیرونی و اندرونی تضاد حل کرکہ ریاست جموں کشمیر کے سماج کو حرکت دی جاسکتی ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ ظالم و مظلوم، حاکم و محکوم یا طاقتور و کمزور ہرعہد میں موجود رہا ہے اور ہر عہد سے دوسرے عہد میں تبدیل ہونے کی صورت اپنی بھی ہیت تبدیل کرتا رہا ہے۔ یہ مظلوم طبقہ غلامانہ عہد میں غلام کے روپ میں نظر آیا مگر جیسے ہی غلامانہ عہد جاگیرداریت میں تبدیل ہوا تو یہ غلام مزارع کے روپ میں دیکھائی دیا اسی طرح جب جاگیرداریت نے سرمایہداریت کو جنم دیا تو یہ مزارع ہمیں مزدور کی صورت مظلوم نظر آیا۔
اب یہ مظلوم جدید صنعتی دور میں مزدور کے نام سے جانا جاتا ہے اور نوآبادیات میں قومی غلامی میں پستا ہوا نظر آتا ہے مگر یہ عوام سماج کہ ایک مخصوص مرحلے پر اپنے اپنے تضادات کو حل کرکہ آگئے بڑھتے ہیں۔ اب دنیا کو نوآبادیات سے قومی آزادی میں داخل ہونا ہوگا اور پھر بین
الاقوامیت کی طرف بڑھ کر پوری دنیا سے ظلم، جبر و استحصال کا خاتمہ کر دینا اسکا تاریخی فریضہ ہوگا اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انسانیت اپنے اعلی ترین مرحلے پر پہنچ کر دنیا کو آرام و سکون فراہم کرتی ہے۔
دنیا بھر کہ محنت کشو ایک ہو جاؤ۔

Share This Article
Leave a Comment