پاکستان نے بلوچستان کے معدنی ذخائر کی تلاش کا کام کمپنیوں کے سپرد کردیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان اسمبلی نیبلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر سرکاری تیل اور گیس کمپنیوں کو دیئے گئے پٹرولیم ایکسپلوریشن بلاکس کی تفصیلات جاننے کے لیے ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے صوبائی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت نے صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر بلوچستان سمیت صوبوں میں معدنی وسائل کی تلاش کے لیے کمپنیوں کو 6 بلاکس مختص کیے تھے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تین بڑی کمپنیوں کو بلوچستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے لائسنس دیئے گئے، یہ کمپنیاں اربوں روپے کھوج کے کام پر خرچ کریں گی جبکہ اس بڑی سرمایہ کاری میں سے صوبے کو صرف 30 ہزار ڈالر ملیں گے۔

ثناء بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ ایک کمپنی بلوچستان میں 24 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی تاہم ایکسپلوریشن لائسنس جاری کرنے سے قبل صوبائی حکومت سے مشاورت نہیں کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوہلو اور قلات میں تیل اور گیس کے ذخائر پہلے ہی دریافت ہوچکے ہیں لیکن کسی کو بھی ان علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے مطالبہ کرے کہ وہ ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات فراہم کرے جو بلوچستان میں کام کریں گی۔

بی این پی مینگل کی قانون ساز نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو بھی اس سلسلے میں وضاحت جاری کرنی چاہیے اور ایوان میں نمائندگی رکھنے والے فریقین کے ممبران پر مشتمل ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دینا چاہیے۔

کٹھ پتلی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مچھ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے تاہم اس سلسلے میں علاقے کے کسی نمائندے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں ہر پارٹی کے ایک رکن کو شامل کیا جانا چاہیے۔

سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ اور حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ایم پی اے جان محمد خان جمالی نے کہا کہ یہ ایک آئینی مسئلہ ہے اور آئین نے ‘ہمارے حقوق کو یقینی بنایا اور کوئی بھی ہمیں ان حقوق سے محروم نہیں کرسکتا’۔

انہوں نے اس معاملے پر غور کرنے کے لیے تکنیکی کمیٹی کے قیام کی حمایت کی۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زری نے کہا کہ صوبائی حکومت سے کسی بارے میں نہیں پوچھا گیا کیوں کہ فیصلے بیوروکریٹس نے لیے تھے، اس معاملے پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

بلوچستان کے کٹھ پتلی اسپیکراسمبلی عبدالقدوس بزنجو نے اس بات کی تائید کی کہ اس اہم معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

بعد ازاں ثنا بلوچ نے آئین کے آرٹیکل 172 (3) پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی تحریک پیش کی۔

تحریک منظور کی گئی اور اسپیکر نے کمیٹی تشکیل دے دی۔

Share This Article
Leave a Comment