بھارت میں24 گھنٹوں دوران 3 لاکھ سے زائد نئے متاثرین، 2700 سے زیادہ اموات

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت برقرار ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 348831 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 2760 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس طرح انڈیا میں اب مجموعی طور پر 169,60172 سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 192311 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔’

ملک میں اب تک 14 کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

انڈین حکومت نے ٹوئٹر سے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے مقامی قانون سازوں سمیت مختلف افراد کی درجنوں ایسی ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دے جو انڈیا کے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات پر تنقید کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا اس وقت کورونا وائرس کی شدید لہر کی زد میں ہے اور یہاں یومیہ نئے متاثرین کی تعداد لگاتار چار روز سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

ٹوئٹر کی ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو سنیچر کو بتایا کہ انڈین حکومت کی درخواست کے بعد کچھ ٹویٹس انڈیا میں صارفین سے پوشیدہ کر دی گئی ہیں۔

ٹوئٹر نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لیومن ڈیٹابیس پراجیکٹ پر یہ واضح کیا کہ انڈین حکومت کی جانب سے ٹویٹس کو سینسر کرنے کا ہنگامی حکم دیا گیا۔

کمپنی کے مطابق ’اگر یہ مواد ٹوئٹر کے قواعد کے خلاف ہوا تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔ اگر یہ کسی ملکی قانون کے خلاف ہوا مگر ٹوئٹر قواعد کے خلاف نہ ہوا تو ہم صرف انڈین صارفین کی اس تک رسائی روک دیں گے۔‘

انڈیا کے وفاقی وزیرِ صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ دلی حکومت نے جتنی آکسیجن کی درخواست کی تھی، انھیں اس سے زیادہ دی گئی اور اب یہ ان پر ہے کہ وہ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزیرِ صحت نے یہ بات سردار پٹیل کووڈ کیئر سینٹر اینڈ ہاسپٹل کے دورے کے دوران کہی۔ کووڈ 19 کے علاج کے لیے قائم کیا گیا یہ ہسپتال آئندہ ہفتے سے کام شروع کر دے گا۔

ا±نھوں نے کہا کہ ’انڈیا میں آکسیجن کی پیداوار کے تحت ہر ریاست کو آکسیجن اس کے کوٹے کے مطابق دی گئی ہے۔ دلی کو بھی اس کے طلب کردہ کوٹے سے زیادہ آکسیجن دی گئی اور وہاں کے وزیرِ اعلیٰ نے انڈین وزیرِ اعظم کا گذشتہ روز اس کے لیے شکریہ ادا کیا۔‘

ڈاکٹر ہرش وردھن کا کہنا تھا کہ اب وہاں کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کوٹے کو منظم انداز میں تقسیم کرنے کے لیے منصوبہ سازی کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے دلی کو یقین دلایا ہے کہ آکسیجن کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی اور رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انڈین طبی حکام نے مطلع کیا ہے کہ دلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 24 ہزار 103 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 357 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

اس وقت صرف دارالحکومت دلی میں اموات کی تعداد 13 ہزار 898 تک پہنچ چکی ہے جبکہ یہاں پر 93 ہزار لوگ اب بھی اس مرض سے متاثر ہیں۔

انڈیا کی دائیں بازو کی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما سرکاریاوہ دتاتریہ نے ملک میں کووڈ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ’انڈیا مخالف‘ قوتوں سے خبردار کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سماج مخالف اور انڈیا مخالف قوتیں اس سنگین صورتحال کا فائدہ اٹھائیں اور ملک میں منفیت اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کر دیں۔ عوام کو ان قوتوں کی سازشوں سے اپنی مثبت کوششوں کے ذریعے خبردار رہنا پڑے گا۔‘

تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان مبینہ قوتوں سے ان کی مراد کیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ معاشرے کی تمام سماجی و مذہبی تنظیموں سمیت رضاکاروں اور مسلح افواج کے اہلکاروں، کاروباری شخصیات اور اداروں سے درخواست کرتی ہے کہ کسی بھی قسم کی عدم تیاری پر قابو پائیں اور اس صورتحال پر قابو پانے کی ہر کوشش کریں۔‘

Share This Article
Leave a Comment