پی ٹی ایم کودہشگردتنظیم قرار دینے کے بیان پرفضل الرحمن تنقید کی زد میں

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

مولانا فضل الرٰحمن کی جانب سے پی ٹی ایم کو دہشتگرد قرار دینے پر کئی حلقے چراغ پا ہیں۔ ناقدین اس بیان کو ایسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش قراردے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے اور پی ٹی ایم کے حامی مولانا فضل الرحمٰن کی سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل کے ساتھ لی گئی تصاویر کو شیئر کر کے ان پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں۔

پی ٹی ایم کے رہنما ڈاکٹر سید عالم مسعود نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ان کو ‘سوداگر مولوی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کوئی اینٹی ایسٹیبلشمنٹ آدمی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عالم مسعود نی کہا،”ٹی ایل پی، جس نے املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس والوں کو اغوا کیا، اس کی مولانا فضل الرحمٰن حمایت کرتے ہیں اور پی ٹی ایم، جس نے کبھی کوئی گملا بھی نہیں توڑا اور ہمیشہ پرامن رہی، اسے یہ دہشت گردی اور انتہا پسند قرار دیتے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ، ”فضل الرحمٰن کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسٹبلشمنٹ سے کہتے ہیں کہ کالعدم قبائلی علاقوں اور افغانستان میں خون خرابے میں انہوں نے پنڈی کا ساتھ دیا لیکن پنڈی نے اقتدار ایک کرکٹر کو دے دیا۔ یہ مولانا ووٹ پختونوں سے لیتا ہے اور غلامی کسی اور کی کرتا ہے۔ انہوں نے پختونوں کو بھی بیچا ہے اور مذہب کو بھی بیچا ہے یہ بہت بڑے سوداگر ہیں۔“

ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا تھا کہ پوری پختون قوم دیکھ رہی ہے کہ مریم نواز شریف اور نواز شریف اس بیان پر کیا رد عمل دیتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کی سابق رہنما و رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کی پرزور مذمت کی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ایک پر امن تنظیم کے خلاف زہر اگل کے مولانا فضل الرحمٰن نے ان پشتونوں کی توہین کی ہے جنہوں نے اپنی جان کی قربانیاں دیں، دہشتگردی کا شکار ہوئے اورجو ا?ج بھی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔“

بشریٰ گوہر نے یہ بھی کہا، "فضل الرحمٰن نے ریاست کو یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ ان کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہے اور خطے میں نئی پراکسی جنگ کی صورت میں ان کی خدمات حاضر ہیں۔ وہ ملا ملٹری الائنس کی بحالی کے لیے خواہاں ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں بلکہ محسن داوڑ کو پی ڈی ایم سے نکال کر سلیکٹرز کو یہ پیغام دیا کہ وہ ان کے خادم ہیں۔“

پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے معروف صحافی و تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ فضل الرحمٰن کی طرف سے ایسا بیان آنا حیران کن ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "پی ٹی ایم کے آنے سے مولانا کی جماعت فاٹا میں کچھ نشستوں پر انتخابات ہاری۔ اس کے علاوہ عمران مخالف ووٹ کے تقسیم ہونے سے بھی جے یو آئی ایف کا نقصان ہوا۔ پی ٹی ایم سے مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی طور پر نقصان ہوا ہے لیکن اس قدر سخت بیان کا آنا حیران کن ہے، جس پر محمود خان اچکزئی کی پارٹی ممکنہ طور پر مولانا سے اس کی وضاحت بھی طلب کرے گی۔“

رحیم اللہ یوسفزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا ایسٹیبلشمنٹ سے رعایت حاصل نہیں کر سکتے۔ "ہر مرتبہ انتخابات سے پہلے مولانا یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید اس مرتبہ کم از کم خیبرپختونخواہ میں جے یو آئی ف کی حکومت بن جائے گی لیکن جب یہ حکومت نہیں بنتی تو مولانا ایسٹیبلشمنٹ پر الزام لگا دیتے ہیں۔“ یوسفزئی کے مطابق صرف پی ٹی ایم کے خلاف بیان داغنے سے مولانا کو کوئی رعایت نہیں ملے گی کیونکہ ایک طرف مولانا پی ٹی ایم کے خلاف بیان دے رہے ہیں جو اینٹی ایسٹیبلشمنٹ ہےاور دوسری طرف نواز شریف کے ساتھ ہیں جن کی پالیسی بھی ایسٹیبلشمنٹ مخالف ہے۔

پی ڈی ایم میں شامل کچھ جماعتیں بھی مولانا کے اس بیان کو مناسب نہیں گردانتی۔ پی ڈی ایم کی رکن جماعت نیشنل پارٹی کے سینیٹر اکرم بلوچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "دہشت گردی ایک سنگین الزام اور مولانا کو اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔“

ڈی ڈبلیو نے متعدد مرتبہ جمعیت علماءاسلام فضل الرحمٰن گروپ کے ارکان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ مولانا کے اس بیان سے پی ڈی ایم کمزور ہو گی اور اگر مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز شریف نے اس پر کوئی وضاحتی بیان نہیں دیا، تو پھر پی ڈی ایم کو ملک کے پختون علاقوں میں بڑے پیمانے پر غیر مقبولیت حاصل ہو گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment