زندان | میرین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
13 Min Read

میرے جنون کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں اُن میں ایک جزبہ،جنون، احساس اور ایک نظریہ سے اہم رکھتی ہے چائیں وہ رشتہ خون کا ہو یا پھر نظریے کا ہو، اور ہر انسان کا ایک اپنا الگ کرتب ہوتا ہے جسکی مثالیں آپکو کئی کالموں میں بھی ملتی ہے
ماہرین کہتے ہیں کہ محکوم اور مظلوم کی طبقات 1906 سے لیکر 1964میں عالمی دنیا میں جسکا دوسرا معاہدہ ہوا تھا اور 1907میں اسکی پابندی کی اپیل کی گئی اور پھر دوبارہ اپیل کرنا پڑا جس میں طویل عرصہ آٹھ سال کے بعد بیشتر علاقوں میں متاثر ہوا اور جنگ عظیم دس سال کے بعد پھر تیسرا معاہدہ ہوا جس میں 1949میں 61 ملکوں کے نمائندے، جنیوا میں جمح ہوئے اور یقین دہانی بھی کرائی اور 1448 میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی منشور بھی منظور کر دیا اور اگر ہم جائزہ لیں تو مخالف نظر پاکستان اور مختلف قومیتوں نے عام شہریوں کو لاپتہ کرکے عقوبت خانوں میں بند کیئے ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں اور پاکستانی خفیہ اداروں نے چالیس ہزار سے زائد بلوچوں کو لاپتہ کیا ہے اور بی بی سی کے مطابق آٹھ ہزار پشتونوں کو بھی ریاستی اور عسکری اداروں نے سندھی اور کراچی مہاجرین کو بھی لاپتہ کرکے عقوبت خانوں میں بند کیئے ہوئے ہیں اور دوسری جانب اقوام متحدہ کے عالمی منشور جس میں آرٹیکل دس کے تحت ہر شخص کو یکسان طور پر حق حاصل ہے کہ کوئی بھی مجرم ہو تو اسے کُھلی عدالت میں پیش کیا جائے اور دوسری جانب آرٹیکل گیارہ میں کہ اگر فوجداری پہ عائد ہے تو بھی پیش کیا جائے تو پھر کہاں گئی وہ عدالتیں۔۔۔!
یہاں تو عدالتوں میں پیش کرنا تو اپنی جگہ، یہاں تو یہ بھی نہیں بتایا جا سکتا کہ وہ مرچکا ہے یا زندہ۔۔۔۔۔!
کیونکہ یہاں گرفتاری کی وارنٹ نہیں ہوتی،لیکن یہ سب آزاد قوم اور آزاد ملکوں کیلئے ہوتے ہیں جہاں غلام سے غلامی آجاتی ہے اسطرح کی کئی حرکتیں سوالیہ نشان ہوتے ہیں اور دوسری جانب پیغمبر اسلام کا خوب فرمان ہے جہاں ظلم ہو رہا ہو، تو وہاں پہ اگر خاموشی اختیار کر لیا تو وہ گناہ گار بھی کہلا جائے گا اور نبی پاک بھی فرماتے ہیں کہ خاموش رہنا بھی، گناہ کبیر ہے
بلوچستان میں دن بدن اغواہ اور لاشوں کی بے حرمتی کا سلسلہ تیزی سے جا رہا ہے یہاں تک کہ بلوچستان کی خواتینوں کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا ہے جس میں زرینہ مری مشکے، آواران اور مکران میں عورتوں اور بیٹیاں کو گرفتار کیئے اور بعد میں اگر رہائی ہو تو مگر۔۔۔۔۔!
اسطرح کی حرکات ہر وقت اور ہر لمحہ ہر انسان کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ آپ غلام ہو اور نہ غلام کو نہ جان و مال اور نہ ہی عزت محفوظ رہتی ہے اسی طرح پچھلے دہائی میں بنگلہ دیش کے مردوں کو تشدد اور انکی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی اور 90 ہزار سے زیادہ خواتینوں کو حوس کرکے حاملہ بنائی ہوئی تھیں اور آج بھی قابض فوج بلوچ بہن اور بھائیوں کے ساتھ ایسی ناشائستہ حرکتیں کرتے آرہے ہیں دوسری جانب ہمارے پیارے بھائی اور بہنوں نے وائس آف بلوچ مسنگ پرسن کے وائس چیرمین نصراللہ اور کماش ماما قدیر کی ھمراہ تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ایک طویل تاریخی پیدل مارچ کرکے جس میں کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ سفر کیا جس میں چھوٹے کمسن بچے، بوڑھے اور مرد خواتین بھی شامل تھیں
اسی طرح فرزانہ مجید تحریک کی پہلی عورت ہیں جس نے 2800 کلو میٹر فاصلہ طے کیا جس میں دھمکیوں اور ٹکراؤں کے باوجود کاروان کو اپنی منزل کی طرف رواں دواں کی اور آج بھی جاری ہے اور بی ایس اؤ آزاد کے سابقہ وائس چئرمین ذاکرمجید جس میں 8 جون 2009 کو ریاستی اور عسکری اداروں نے لاپتہ کیا اور آج گیارہ سال بیت گئے ہیں لیکن ابھی تک تاحال لاپتہ ہیں کہتے ہیں کہ غلامی کسی بھی شکل میں ہو وہ ممنوع قرار دی جاتی ہے اور ایک نہ ایک دن سورج کا طلوع خوشی کی ہی نوید سے اپنی اختتام پہ پہنچے گی اور دوسری بات پاکستان تو مہذب کا دعویدار تو بن سکتا ہے لیکن تہذیب سے وہ کبھی بھی روشناس نہیں ہونگے
اسی طرح مشکے کے رہنے والے بی این ایم کے سابقہ مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر دین محمد جس میں خضدار کے علاقے اورناچ میں 28 جون 2009 کو خفیہ اداروں نے لاپتہ کرکے عقوبت خانوں میں بند کیا اور آج اس کو گیارہ سال بیت گئے ہیں لیکن انکی کمسن بیٹی مہلب اور سمی اور انکی رشتہ داریں ابھی تک انکی راہ دیکھ رہے ہیں کہ کب ہمارا والد گھر پر آئیں گے زندگی کی وحشت ناک جس میں کبھی ریلی پریس کلبوں مظاہروں اور عدالتوں کےچکر گزار رہے ہیں کتنی خوابوں، رنگوں اور لمحوں کا گلا گھونٹ دیا ہوگا
اور دوسری جانب تین اپریل کو تین عظیم رہنما غلام محمد، شیر محمد اور لالہ منیر کو قابض فوج اور خفیہ اداروں کے ہلکاروں نے اغواہ کرکے عقوبت خانوں میں بند کیا اور چھ دن کے بعد 9 اپریل 2009 کو ان تین عظیم ہستیوں کی مسخ شدہ لاش مرگاپ کے ویرانوں میں پھینک دیا اور آج تاریخ گواہ ہے کہ مسخ شدہ لاشوں سے رستا لہو مرگاپ سے لیکر بلوچستان کے شاہراہوں تک پہنچ گیا ہے اور شہادتوں سے قومیں ختم نہیں ہوتی، بلکہ تحریکیں بڑھتی ہیں آج بلوچ قوم سرا پا احتجاج ہے کبھی جلسہ جلوسوں میں شرکت، احتجاجی پروگراموں اور ریلی مظاہروں میں دھرنا، اسٹڈی سرکل، سیمینار اور ورکشاپس منعقد کر وانا اور خواتین، نوجوانوں کی سیاسی تربیت اور ذہنی نشونما کرنا، انکو آزادی کی تحریک کا اہم حصہ بن گئی ہے جسکی ایک عظیم مثال ہے جس میں آنے والے نسلوں کیلئے ایک نئی سورج طوع ہونے کا آغاز ہے اور اسی طرح بلوچستان میں ہمیں کئی طرح کی داستانیں ملتی ہیں نہ جانے کس کس کی داستان بیان کر سکوں کیونکہ ہر خاندان میں ایک غم و رنج نے جھنجوڈ کر رکھا ہے
اسی طرح نصیر بلوچ جس میں بی ایس اؤ آذاد کے سابقہ سنٹرل کمیٹی کے ممبر 15نومبر 2017 کراچی سے بی ایس اؤ آزاد کے سابقہ سیکٹریٹری جنرل ثناہ بلوچ بی ایس اؤ آزاد کے سابقہ سیکٹرل کمیٹی کے ممبرحسام بلوچ 10/11/2020 بی این ایم کے ممبر رفیق کے ھمراہ پاکستانی رینجرز اور isi کے ہلکاروں نے چھوٹی سی ننھی ماہ رنگ اور ماں کی آنکھوں کے سامنے انکو لاپتہ کرکے عقوبت خانوں میں بند کیا اور ماہ رنگ اپنی والدہ زبیدہ اور چھوٹے بھائی سنجر کے ساتھ بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھی ہوئی ہیں اور دس سال کا حیدر علی جس کے گھر میں تین بہن ماں کے علاوہ اور کمانے والا کوئی نہیں جسکی ابو، رمضان بلوچ ابھی تک تاحال لاپتہ ہیں ایک طویل پیدل مارچ کے بعد بھی ان ظالموں میں کوئی رحم ہی نہیں آیا، اسی طرح ماہ رنگ کے باپ، عبدل غفار بلوچ کو بھی ریاستی اور خفیہ اداروں نے لاپتہ کر دیا اور پھر انکی مسخ شدہ لاش پھینکی اور پانچ بہنوئیں، اپنی والد کی شکل کو دیکھنے کیلئے ترس رہے تھے اسی طرح انکے بھائی کو بھی لاپتہ کیا کیونکہ ان لوگوں کیلئے وہ ایک امید تھا ایسے جیسے لوٹنے والے پیچھے کچھ چھوڑ دیا ہو لیکن ریاستی اداروں نے اسکی ابو کی طرح بھائی کو بھی لاپتہ کردیا اور اب تک ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں ان میں کئی لاپتہ بھی شامل ہیں اور دوسری جانب 4 اکتوبر 2016 کو بی ایس اؤ آزاد کے شبیر بلوچ کو کیچ کے علاقے گور کوپ میں ریاستی اور عسکری اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا اور آج بھی اسکی بہن سیما اپنی رشتہ داروں کے ساتھ لاپتہ کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں اسی طرح اسیبہ قمبرانی کی خاندان آج بھی وہ سوگ منارہے ہیں 2015 جولائی کے مہینے میں سلمان قمبرانی اور گزین قمبرانی کو جبری طور پر لاپتہ کیا اور ڈیڈھ سال کے بعد انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں اور ان دونوں میں سے ایک انکی بھائی بھی تھی جس کے جسم کو ڈریل کیا تھا ہاتھ اور پاؤں تھوڑے ہوئے تھے اور جلنے کے کچھ علامتیں بھی تھیں اور گولیوں کے بھی نشانات تھیں اور اسی طرح 14 فروری 2020 کو ریاستی اور خفیہ اداروں نے محمد حسان قمبرانی اور حزب اللہ قمبرانی کو جبری طور پر لاپتہ کیا جس میں اسیبہ قمبرانی آج بھی سڑکوں میں نظر آتی ہے اسی طرح قابض کٹھ پتلی حکومت زخم پہ زخم چھڑا رہے ہیں نہ جانے اب تک کتنے ماں بے اولاد ہوچکے ہیں اور کتنی بہنیں بیوہ بن چکی ہیں نہ جانے اس مٹی کے رشتے میں کتنے بچے یتیم ہو چکے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا قصور صرف اور صرف تم بلوچ ہو اور ہمیں بلوچ سے محبت نہیں، بلکہ بلوچستان کی سرڈگار سے محبت ہے جس میں قابض فوج 72سالوں میں قابض کئی طرح کی حکمت عملی بنائی ہوئی ہیں لیکن وہ ہمہ وقت ناکام ہوچکی ہیں اور کئی کئی طرح کی پالسیاں بھی بنائی ہوئی ہیں لیکن ایک بھی کام میں نہیں آئی اور نہ آئے گی کیونکہ تشدد اور لاشوں کی پھینکنے سے نہ بلوچ قوم ڈرے تھے اور نہ ہی ڈرنے والی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم صرف اسیبہ اور انسا نہیں، بلکہ ہم فرزانہ ہیں ہم ماہ رنگ ہیں ہم سمی ہیں اور ہم برمش ہیں ہم بلوچستان ہیں اور اسی طرح بلوچ قوم کیلئے انسا خود ایک مثال ہیں کیونکہ انسا کی سوچ، فکر اور شعور کی انتہا ہے جو ہر انسان،انسانیت کو انقلابی بناتا ہے جس سے کسی کو بھی ہزار سالہ زندگی سے بخش ملتی ہے اسی طرح انسا اسیبہ اور ماہ رنگ کی طرح ہمیں کئی جہدکاروں پر ناز ہے جس میں صدیوں کی عمر پانے کا ہنر جانتے ہیں کیونکہ ایسی ہستیاں خاک کے ڈھیر کو جنت کی توقیر بخشتے ہیں اور ہمیں ایسی کئی داستانیں ملی جاتی ہیں جس میں ایک دانشور نے خوب کہا کہ تیرے ہاتھوں میں جو علم ہے، وہ ہمیشہ سربلند رہیگا اور لاپتہ کا جنہم ہوتا رہیگا اور یہ کارواں یوں ہی رواں دواں چلتا رہیگا اور ایک حوصلہ کے ساتھ سراوان سے لیکر کوہ البرز کے مقام تک پہنچ کر دم لے گا اور ایک نئی سورج کا طوع آفتاب ہوگا
۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment