پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات اور علاج سمیت دیگر مطالبات کے لیے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔
اس دوران ایک خطاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں کسی نئی ملٹری کارروائی یا ڈرون حملوں کی پالیسی قبول نہیں کرے گی اور خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہییں۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے حکومت اور پی ٹی آئی و تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشترکہ مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز اختتام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ عمران خان تک رسائی کا مطالبہ تھا تاکہ پارٹی قیادت اہم سیاسی اور قومی معاملات پر ان سے مشاورت کر سکے، تاہم حکومت نے اسے معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قافلہ پیر کو کرک سے اپنے اگلے مرحلے کی جانب روانہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کرک کے عوام ہمیشہ سیاسی شعور اور بیداری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ عوام ایسے ہی نظریات کے حامی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا جمِ غفیر اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک سمجھدار وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو کرپشن کریں اور قومی مفادات پر سمجھوتے کریں۔ انھوں نے پشتونوں کے مسائل، فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے کی وجہ سے انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وہ ہر اس قوت کو ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہیں گے جو ان کے بقول پشتونوں کے مفادات کے خلاف فیصلے کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ سمیت دیگر پارٹی رہنما ناحق قید کاٹ رہے ہیں اور یہ سب ملک کے نوجوانوں اور عوام کے مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے تحریک کا حصہ بنیں، ورنہ حکمران عوام کے وسائل پر قابض رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق لانگ مارچ کا اگلا پڑاؤ کوہاٹ میں ہوگا، جبکہ صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ’طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی‘۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار ان کی تحریک کا مقصد کامیابی حاصل کرنا اور عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے۔