بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں بی ایس او آزاد کے مرکزی اطلاعاتی سیکرٹری شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے 10 سال مکمل ہونے پر گہری تشویش اور شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے بیان میں کہاکہ آج سے ٹھیک دس سال قبل، 4 اکتوبر 2016ء کو شبیر بلوچ کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے گوارکوپ سے اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے مرکزی اطلاعاتی سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک چھاپے کے دوران ان کی اہلیہ کی موجودگی میں انہیں حراست میں لیا۔ اس دن حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا، لیکن شبیر بلوچ کو سامنے نہیں لایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ابتداء میں اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد ان کے اہلخانہ نے عدالتوں اور جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن سے رجوع کیا۔ اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کو بھی اس کیس سے آگاہ کیا گیا، مگر اس تمام تر کوششوں کے باوجود ان کا تاحال کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔
بی این ایم کے چیئرمین نے شبیر بلوچ کے اہلخانہ کی طویل جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے ایک عشرے سے ان کی بہن سیما بلوچ اور اہلیہ زرینہ بلوچ تربت، کوئٹہ، کراچی اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں مسلسل سراپا احتجاج ہیں، اور صرف یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ شبیر بلوچ کو عدالت میں پیش کیا جائے یا ان کے زندہ ہونے سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ ان کی اہلیہ نے ا علانیہ طور پر کہا ہے کہ وہ نہیں جانتیں کہ وہ خود کو سہاگن کہیں یا بیوہ۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ شبیر بلوچ کا کیس بلوچستان میں ہونے والی ہزاروں جبری گمشدگیوں کا ایک واضح ثبوت ہےاور دس سال کا یہ طویل عرصہ محض کوئی عدد یا اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کے اس درد اور انتظار کی داستان ہے جو آج بھی ایک ایسے جواب کے منتظر ہیں جو کبھی نہیں آیا۔