آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 50 کروڑ ڈالر کی منظوری دیدی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو دیے جانے والے بیل آوٹ پیکج کے تحت 50 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 50 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اس سٹاف لیول معاہدے پر اتفاق کے بعد جاری کی جا رہی ہے، جس پر اس سال فروری کے مہینے میں دونوں اطراف نے باہمی اتفاق کیا تھا۔

50 کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت جاری کی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان نے جولائی 2019 میں اس پر دستخط کیے تھے جس کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو مدد فراہم کی جا سکے۔

اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی ہے۔

آئی ایم ایف کا پاکستان سے موجودہ پروگرام اس وقت التوا کا شکار ہو گیا تھا جب گزشتہ برس فروری میں پاکستان نے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پاور سیکٹر کے نرخوں میں مزید اضافے کو جون کے مہینے تک ملتوی کرنے کا کہا تھا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کا اس پروگرام پر دوسرا نظرثانی جائزہ نہیں ہو سکا۔

کورونا وائرس کی وبا نے جب دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا تو اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے مزید ادائیگی کو موخر کر دیا گیا تھا تاہم اس پروگرام کے معطل ہونے کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کو کورونا وائرس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی تھی جو اس پروگرام کا حصہ نہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کی پاکستان کے لیے بحالی ایک جانب ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 50 کروڑ ڈالر کا اضافہ کرے گی تو دوسری جانب اس سے جڑی شرائط پر معیشت اور صنعت و تجارت کے ماہرین اور اس سے وابستہ افراد تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک پاکستان کی معیشت کو شدید متاثر کریں گی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے اس پروگرام کے دوبارہ شروع کرنے سے متعلق کچھ شرائط ہیں جن میں نمایاں بجلی کے قانون یعنی نیپرا ایکٹ میں ترامیم، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایکٹ میں ترامیم، اضافی ٹیکس کی وصولی اور بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ شامل ہیں۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اس ماہ کے شروع میں سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے جس کے تحت مرکزی بینک کو زیادہ خود مختاری دی جائے گی۔

اس سلسلے میں وفاقی حکومت ایک آرڈیننس کے زریعے سٹیٹ بینک کے ایکٹ میں ترامیم لا رہی ہے تو اسی طرح ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا آرڈیننس بھی لایا جا رہا ہے تاکہ اس کے ذریعے اضافی ٹیکس وصول کیا جائے جو آئی ایم ایف کی شرائط کا حصہ ہے۔

وفاقی کابینہ نے نیپرا ایکٹ میں ترامیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری بھی دے دی ہے اور بجلی کے نرخ کم از کم 5.65 فی یونٹ بڑھانے کی منظوری بھی کچھ دن پہلے دے دی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment