پاکستان کے صدر آصف زرداری نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اس پر فوری عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کابینہ کی سمری لے کر ایوانِ صدر گئے تھے، جس کی منظوری کے بعد صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔
آئین پاکستان کے دسویں باب کے آرٹیکل 232 کے تحت صدرِ پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگ، بیرونی جارحیت یا داخلی انتشار اور سنگین ہنگامی صورتحال کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں، جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار میں نہ رہے۔
آئین کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں وفاقی حکومت صوبے کا انتظامی امور براہِ راست سنبھال سکتی ہے یا گورنر کو تمام فرائض سنبھالنے کی ہدایت دے سکتی ہے، جبکہ اس فیصلے کو دس دن کے اندر پارلیمان کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) سے منظور کرانا لازمی ہوتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے، ورنہ اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
دوسری جانب، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید خطرناک حد تک بڑھ جائے گی اور اس سے پہلے سے کمزور جمہوری عمل کو شدید دھچکا پہنچے گا۔
ایچ آر سی پی نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر بامعنی سیاسی مذاکرات کا آغاز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی بہانے سے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق معطل نہ کیے جائیں۔