خیبرپختونخوا میں مظاہرین پر طاقت کے استعمال کا فیصلہ،راولپنڈی اور مری میں دفعہ 144 نافذ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیس کا صوبے میں پرتشدد مظاہروں کی صورت میں طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے جبکہ راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذکیا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس نے صوبے میں ممکنہ ہنگامہ آرائی اور پرتشدد مظاہروں کی صورت میں طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس کے دفتر سے جاری آپریشنل گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ ‏پہلے مرحلے میں وارننگ جبکہ دوسرے مرحلے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیل استعمال کیا جائے گا۔

گائید لائنز کے مطابق اگر اس سے کام نہیں بنا تو اس کے بعد ربڑ کی گولیاں اور پیپر بال گنز استعمال کی جائیں گی۔

باز نہ آنے کی صورت میں آئی جی پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، ہوائی فائرنگ اور ان کو گرفتار کرنے کے بھی احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

‏آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کی جانب بسے یہ احکامات خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 83 سے 88 کے تحت صوبے کے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو جاری کی گئی ہیں۔

مراسلے میں ‏ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود احتجاجی مظاہروں میں ڈیوٹی سرانجام دیں۔

اس طرح تھانوں، سرکاری دفاتر، پٹرول پمپس، بینک، شاپنگ سینٹرز اور ہائی ویز سمیت حساس تنصیبات کی سکورٹی سخت کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دو شہروں راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع بھر میں جلسے، جلوس، پانچ یا زائد افراد کے اجتماع کے ساتھ ساتھ اسلحہ، ڈنڈے اور پٹرول بم لے کر چلنے پر پابندی عائد ہوگی۔

اس کے علاوہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article