پنجگور سے 2 افراد، خاران سے ایک اور کیچ سے ایک شخص پاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع پنجگور سے پاکستانی فوج نے دو افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منقتل کردیا ہے۔ لاپتہ کیے جانیوالے دونوں افراد تیل کے کاروبار سے منسلک ہیں۔اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات عشاء کے وقت پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی سے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے وحید ولد کریم داد اور بلال ولد جان سکنہ عیسیٰ پنجگور کے حراست میں لیا۔
ذرائع کے مطابق فورسز اہلکاروں کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس مبینہ طور پر ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکار بھی شامل تھے۔ دونوں افراد کو گرفتار کرنے کے وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے تربت یونیورسٹی کے طالب علم کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی فورسز نے کیچ کے مرکزی شہر تربت میں 19 مارچ کو کولوائی بازار میں چھاپہ مارکر تربت یونیورسٹی کے طالب علم نیک بخت کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
مذکورہ نوجوان کولواہ کنیچی کا رہائشی ہے وہ اس مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تربت میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے یہاں مقیم تھا جنہیں 19 مارچ کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا جو تاحال لاپتہ ہے۔
بلوچستان کے ضلع خاران سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔گذشتہ رات 3 بجے کے قریب پاکستانی فورسز نے خاران شہر میں کبدانی محلہ نزد ٹینکی والا قبرستان ایریا میں چھاپہ مارکر عمران کبدانی ولد کریم بخش کبدانی کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
خاران میں 19 مارچ فورسز کا آپریشن جاری ہے، بتایا جارہا ہے فورسز نے دوران آپریشن اب تک کئی افراد کو لاپتہ کردیا ہے جن میں ایک شخص قدرت اللہ ولد محمد وارث کی لاپتہ ہونے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے گذشتہ ماہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسلام آباد پریس کلب اور بعدازاں ڈی چوک اسلام آباد میں اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے دھرنا بھی دیا تھا۔