پاکستان کیساتھ خوشگوار تعلقات کیلئے دہشتگردی سے خالی ماحول کی ضرورت ہے، مودی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کو یومِ پاکستان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پڑوسی ملک کے طور پر انڈیا پاکستان کے عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ایسا ممکن بنانے کے لیے ’دہشتگردی اور دشمنی سے خالی اور اعتماد سے بھرپور ماحول کی ضرورت ہے‘۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستانی ہم منصب کے نام اپنے خط میں کیا ہے۔

اسی طرح انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند نے بھی پاکستان کے صدر عارف علوی کے نام ایک خط میں انھیں یوم پاکستان کے موقعے کے حساب سے مبارکباد پیش کی ہے۔

یاد رہے کہ نریندر مودی کا عمران خان کو خط ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر نئے سرے سے جنگ بندی ہوئی ہے۔ گذشتہ مہینے دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کی سالانہ بات چیت کے لیے پاکستان کا ایک آٹھ رکنی وفد پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کی قیادت میں نئی دلی میں اپنے انڈین ہم منصبوں سے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بات چیت دو سال کے بعد ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ حال ہی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔

نریندر مودی نے لکھا ہے کہ پاکستان کے قومی دن کے موقع پر وہ پاکستانی عوام کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔

ا±نھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اس مشکل وقت میں وہ انھیں اور پاکستانی عوام کے کووڈ 19 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے پر نیک تمناو¿ں کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔

جبکہ پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزاری نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے خط کے ردعمل میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’خیر سگالی کا اقدام خوش آئند ہے لیکن انڈیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ’اعتماد کا، دہشت گردی اور عداوت سے مبرا‘ ماحول اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اور پاکستان میں انڈیا ریاستی دہشت گردی کا خاتمہ کرے اور کشمیر تنازع بات چیت کے ذریعہ حل ہو جائے۔ مستقل امن کا دارومدار تنازعات کے حل پر ہے۔‘

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس میں تیسری طاقتیں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔

سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے چند دن قبل اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الجبیر نے کہا تھا کہ سعودی عرب پورے خطے میں امن چاہتا ہے اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ واقعات کسی پسِ پردہ پیش رفت کا نتیجہ ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment