سعودی عرب کی اقوام متحدہ کی زیر نگرانی یمن میں جنگ بندی کی پیشکش

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

سعودی عرب نے برسوں سے خانہ جنگی کے شکار عرب ملک یمن میں حوثی باغیوں کو ملک گیر جنگ بندی کی پیش کش کر دی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق اس سیز فائر پر عمل درآمد کی نگرانی اقوام متحدہ کو کرنا چاہیے۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے پیر کے روز کہا کہ ان کے ملک نے عرب دنیا کی غریب ترین ریاست اور کئی برسوں کی ہلاکت خیز خانہ جنگی سے تباہ حال یمن کے لیے ایک نئی امن پیش رفت شروع کی ہے، جس کا مقصد وہاں جنگ کا خاتمہ ہے۔

اس پیش رفت کے تحت ایران نواز حوثی شیعہ باغیوں کو پورے یمن میں ایسی جنگ بندی کی پیش کش کی گئی ہے، جس کی نگرانی اقوام متحدہ کو کرنا ہو گی۔ مزید یہ کہ حوثی باغیوں کو صنعاءکے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے اور حدیدہ کی بندرگاہ کے راستے ایندھن اور اشیائے خوراک کی درآمد کی اجازت ہو گی۔ صنعاءکا ایئر پورٹ اور حدیدہ کی بندرگاہ دونوں باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

پرنس فیصل بن فرحان السعود نے کہا کہ اسی پیش رفت کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ساتھ اپنے امن مذاکرات بھی بحال کرنا ہوں گے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا، ”یہ نئی امن پیش رفت حوثی باغیوں کے اس پر اتفاق کر لینے کے ساتھ ہی مو¿ثر ہو جائے گی۔“

یمن کی چھ سالہ خانہ جنگی میں ریاض حکومت کی حمایت یافتہ ملکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی اس پیش کش پر اپنے فوری رد عمل میں کہا کہ نئی سعودی امن پیش کش میں تو کچھ بھی نیا نہیں ہے۔

اس موقف کے باوجود حوثی باغیوں کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے تاہم کہا کہ حوثی ریاض حکومت، مسقط اور واشنگٹن کے ساتھ اپنی بات چیت اس لیے جاری رکھیں گے کہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی نا کسی امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ کھلی رہے۔

محمد عبدالسلام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ”ہوائی اڈوں کو کھولنا اور بندرگاہوں کے دوبارہ استعمال کی اجازت یمنی عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کے عمل میں ان کا حق ہے، جسے دباو¿ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔“

یمن کے حوثی باغیوں کا، جن کے خلاف سعودی عرب نے اپنی قیادت میں کئی برسوں سے ایک بین الاقوامی عسکری اتحاد بھی قائم کر رکھا ہے، کہنا ہے کہ یمن کی وہ فضائی اور سمندری ناکہ بندی ختم کی جانا چاہیے، جو ملک میں بدترین انسانی بحران کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

باغیوں کے مطابق اس ناکہ بندی کا خاتمہ ہی وہ اہم ترین پیشگی شرط ہے، جسے تسلیم کرنے کے بعد ہی جنگی فریقین کے لیے کسی امن معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے۔

سعودی قیادت میں عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ یمنی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا مقصد حوثی باغیوں کے لیے بیرون ملک سے ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا ہے۔

یمن کی چھ سالہ خانہ جنگی میں محتاط اندازوں کے مطابق بھی اب تک تقریباًایک لاکھ تیس ہزار انسان مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی لاکھوں میں بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک کی 29 ملین کی مجموعی آبادی میں سے دو تہائی سے زائد شہری زندہ رہنے کے لیے امدادی سامان پر انحصار کرتے ہیں۔

یمن میں اسی جنگ کے باعث کم از کم چار ملین شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیں جبکہ صحت عامہ کا ملکی نظام بھی، جو پہلے بھی بہت ترقی یافتہ نہیں تھا، طویل جنگ کی وجہ سے اتنی بری طرح متاثر ہوا ہے کہ ملک میں نصف کے قریب ہسپتال اور صحت عامہ کے مراکز یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا قابل استعمال نہیں رہے۔

Share This Article
Leave a Comment