ہائوس ان آرڈر کی بات آرمی چیف کرے تو ٹھیک،نواز شریف کرے تو غداربن جاتا ہے، فضل الرحمن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

حال ہی میں اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے گھر کو درست کرنے کی جو بات کہی ہے، اس پر قومی ہی نہیں عالمی سطح پر بھی توجہ دی گئی ہے اور اس پر بڑے پیمانے پر تبادلہ خیال جاری ہے۔

چند برس قبل پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی نے اس وقت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں کچھ ایسے ہی موضوعات پر کچھ سفارشات مرتب کی تھیں۔

ان تجاویز اور فوج کے سربراہ کے بیان میں مماثلت کے بارے میں سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے بی بی سی کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اصل مشکل یہی ہے کہ جب اس طرح کی کوئی بات حکومت یا نواز شریف کہہ دے تو ڈان لیکس بن جاتی ہیں، انھیں غدار قرار دیا جاتا ہے یا ہمارے جیسے لوگ کہہ دیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ سویلین لوگ ہیں، یہ ایسی نازک باتیں کہاں سمجھتے ہیں۔‘

ایک اور سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ قومی سلامتی اور استحکام کے ضمن میں جس راستے کی نشاندہی کی گئی تھی، ڈھائی برس کے بعد وہ فلسفہ ان کی سمجھ میں آ گیا ہے۔

’اب وہ اس راستے پر آئے ہیں تو ہم انھیں مشورہ دیں گے کہ پاکستان کے قومی مقاصد کے حصول کی کنجی قومی ترقی کے راز میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی ترقی پر پوری توجہ مرکوز کر دینی چاہیے۔‘

’اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ قومی خارجہ پالیسی پاکستان کے مفادات کے تابع ہو اور اسے دنیا کے مفادات سے کسی طرح بھی وابستہ نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع اور باریک بینی کے ساتھ تیار کی گئی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے ایک اور سوال پر کہا کہ موجودہ حالات میں کشمیر اور دوطرفہ مسائل کے حل کے سلسلے میں مذاکرات کی کلید انڈیا نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے اور جب وہ حالات کو اپنے مقاصد کے اعتبار سے موزوں پائے گا، مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے گا جس میں پاکستان کے لیے نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

’ایسی صورتحال سے نمٹنے کا راستہ بھرپور قومی اتفاق رائے، اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان اور ایک مضبوط حکومت ہی کر سکتی ہے۔ پاکستان پر آئی ایم ایف، ایف ٹی اے ایف اور انسانی حقوق کمیشن وغیرہ کے بڑھتے ہوئے دباو¿ سے نمٹنے کا راستہ بھی یہیں سے نکلتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ آرمی چیف کی طرف سے ’ہاو¿س کو ان آرڈر‘ لانے کی بات سامنے آنے پر ہم سمجھتے ہیں کہ اب وہ ہمارے نظریات کے قریب آ چکے ہیں۔

’لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسے بڑے اہداف نظریاتی اور سیاسی طور پر ایک مضبوط حکومت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں، موجودہ کمزور غیر نظریاتی حکومت میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ایسا بڑا کام کر سکے۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment