ضلع کیچ: تین افراد پاکستانی فورسز ہاتھوں لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ضلع کیچ کی تحصیل تمپ کے رہائشی ’میرجان ولد کمالان‘ کو پاکستانی فوج نے 15 مارچ 2021 کو گرفتاری کے بعد اپنے ٹارچر سیل میں رکھا اور 19 مارچ کی شام 3 بجے رہا کیا لیکن گرفتاری کے دو گھنٹے بعد شام 5 بجے بھاری نفری اور ڈیتھ اسکواڈ کے ہمراہ ان کے گھر پر دوبارہ چھاپہ مارا اور گیا۔اس چھاپے میں فوجی اہلکاروں نے انھیں ان کی احوال پرسی کے لیے آنے والے دیگر افراد سمیت گرفتار کرلیا۔

میرجان ولد کمالان مسلسل پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی اور ٹارچر کا شکار ہیں یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ انھیں جبری لاپتہ کیا جارہا ہے۔پہلی دفعہ گرفتاری کے بعد پاکستانی فوج نے انھیں ایک سال تک جبری لاپتہ کیا ٹارچر سیل سے رہائی کے بعد وہ دوسری مرتبہ اپنے بھائی ’سالم‘ کے ساتھ جبری لاپتہ کیے گئے اور چوتھے روز ان کو رہا کردیا گیا۔ تیسری مرتبہ 15 مارچ کو اٹھائے گئے اور 19 مارچ کو رہا کے گئے لیکن رہائی کے دو گھنٹے بعد انھیں دوبارہ جبری گمشدہ کیا گیا۔

ضلع کیچ کے علاقے تمپ کے گاؤں گومازی ک میں 17 اور 18 مارچ کی درمیانی رات فورسز نے ’امین اللہ ولد مولابخش‘کو ان کے گھر سے جبری لاپتہ کیا گیا۔کیچ کی تحصیل تمپ اور مند کے علاقے بھی رواں ہفتے جبری گمشدگی کی اس تازہ لہر کا شکار ہوئے اور ان علاقوں سے بڑے تعداد میں لوگوں کو جبری لاپتہ کیا گیا۔

مند بلوچ آباد کے رہائشی نوجوان ’انیس ولد گھرام‘ پھر سے فورسز ہاتھوں لاپتہ۔ انھیں پہلی مرتبہ 7 مئی 2020 کو پاکستانی فوج نے جبری لاپتہ کیا اور 6 مہینے بعد ان کی بازیابی عمل میں آئی۔
پہلی مرتبہ جبری گمشدگی کے دوران انھیں اگست 2020 کے آخری ہفتے میں تربت پولیس کی تحویل میں دیا گیا جہاں ان کے اہل خانہ نے ان سے ملاقات کی اور تصویر کھنچوئی مگر پولیس نے انھیں مزید تفشیش کے لیے تربت تھانے میں رکھا جہاں سے انھیں دوبارہ پاکستانی فوج نے جبری لاپتہ کردیا اور9 اکتوبر 2020 کی شام انھیں رہا کردیا گیا اور وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔ اور ایک بار پھر لاپتہ کر دیا گیا

انیس گھرام کے ایک بھائی ’جاوید ولد گھرام‘ کو جبری گمشدگی کے دوران تشدد کرکے نیم مردہ حالت میں رہا کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور شہید ہوگئے۔

Share This Article
Leave a Comment