پی ڈی ایم لانگ مارچ ملتوی، نواز شریف کو واپس بلا کر قاتلوں کے حوالے نہیں کر سکتے، مریم نواز

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پیپلز پارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے حتمی فیصلے تک 26 مارچ کو حکومت کے خلاف ہونے والا اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دیا ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘آج کا سربراہی اجلاس 26 مارچ کے لانگ مارچ کی حکمت عملی اور اس کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفے دینے کے بارے میں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اجلاس میں لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کو وابستہ کرنے کے حوالے سے نو جماعتیں اس کے حق میں جبکہ پی پی پی کو اس سوچ پر تحفظات تھے اور انھوں نے حتمی فیصلے کے لیے وقت مانگا ہے کہ ہم اپنی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی سے رجوع کر کے پی ڈی ایم کو آگاہ کریں گے۔ لہٰذا 26 مارچ کا لانگ مارچ پیپلزپارٹی کے جواب تک ملتوی تصور کیا جائے۔‘

مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سربراہی اجلاس میں نوازشریف، آصف زرداری، ڈاکٹر جمال الدین ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔

اس موقع پر سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے نواز شریف کے وطن واپس آنے کے مطالبے پر پوچھے گئے ایک سوال پر مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘انھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی بلکہ ان کا کہنا تھا کہ باقی لوگ بھی واپس آئیں اور مل کر جدوجہد کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘نواز شریف کو ملک واپس لانا ان کی زندگی کو خطرہ ہو گا۔ انھیں واپس بلانا ان کی زندگی کو ان قاتلوں کے حوالے کرنا ہو گا، نواز شریف کی جدوجہد اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔’

‘میں بطور بیٹی سمجھتی ہوں کسی کو انھیں واپس بلانے کا حق نہیں ہے۔ ہم نواز شریف کو وطن واپس بلا کر ان کے قاتلوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف خود لندن میں ہیں لیکن ان کی سیاسی جماعت ان کی قیادت میں یہاں متحد کھڑی ہے، میں مسلم لیگ کی نمائندہ ہوں، جس نے نواز شریف سے بات کرنی ہے پہلے مجھ سے بات کرے۔’

پی ڈی ایم میں اختلافات پر پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘پی ڈی ایم آپ کے سامنے کھڑی ہے اور حکومت ختم ہو گی، عملاً ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کریں گے۔’

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے استعفوں کے فیصلے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘جب تک پیپلز پارٹی واپس آکر جواب نہیں دیتی وہ قیاس آرائی نہیں کرسکتی۔’

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما اور نو منتخب سینیٹر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ‘میں نے پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں مشاورت کے لیے وقت لیا ہے اور جلد ہی ہم اس پر پی ڈی ایم کو آگاہ کر دیں گے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہماری سی ای سی نے استعفے نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا لہذا ہم دوبارہ اپنی جماعت کی سی ای سی سے مشاورت کریں گے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں نے پی ڈی ایم کی قیادت کا سینیٹ انتخاب میں حکومت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور جیتنے پر شکریہ ادا کیا اور مبارکباد دی۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment