لاپتہ اے این پی بلوچستان کے رہنماکی لاش برآمد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

مقبوضہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پانچ ماہ قبل اغواء ہونیوالے عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی لاش آج برآمد ہوئی ہے۔پارٹی زرائع کے مطابق اسد اچکزئی کو 5 ماہ قبل کوئٹہ ائیرپورٹ روڈ سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور آج انک لاش نو حصار سے برآمد ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے پارٹی رہنماء کیاغواء اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف رواں ماہ کے 22 تاریخ کو پاکستان سمیت بلوچستان بھر کے تمام ضلعوں میں ریلی اور مظاہرے کیے تھے اور انہوں نے پارٹی رہنماء اسد خان اچکزئی سمیت تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے، اے این بلوچستان کے ترجمان اسد خان اچکزئی کی بے رحمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت ریاست اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسد خان اچکزئی پچھلے 4 مہینوں سے لاپتہ تھے، اے این پی نے ہر فورم پر ان کی باحفاظت بازیابی کے لئے آواز اٹھائی، عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ان کی باحفاظت بازیابی کے لئے پٹیشن دائر کی لیکن ریاست ان کی بازیابی میں ناکام رہی اور آج ان کی لاش ملی ہے۔

اے این پی سربراہ نے شدید غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سینکڑوں کارکنوں کی لاشیں اٹھائی ہیں، مزید جنازے اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، ریاست اور متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ کسی شہری کی لاپتہ ہونے کے بعد اس کی لاش ملی ہو۔ عوامی نیشنل پارٹی نا صرف اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے بلکہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسد خان اچکزئی کے اغواء اور شہادت کی تحقیقات کی جائیں اور اس دلخراش واقعے میں ملوث کرداروں اور عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اسد خان اچکزئی کی شہادت صرف ان کے اہل خانہ کا غم نہیں بلکہ پوری عوامی نیشنل پارٹی کے لئے ایک دل اندوہ صدمہ اور سانحہ ہے، عوامی نیشنل پارٹی دکھ اور غم کی اس گھڑی میں اسد خان اچکزئی کے پورے خاندان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور انصاف کے حصول تک سکون سے نہیں بیٹھے گی۔

Share This Article
Leave a Comment