ایران: 10 نہتے بلوچوں کے قتل کیخلاف عوام سراپا احتجاج ،ضلعی انتظامیہ کے دفترپر دھاوا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میںپاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی جانب سے گذشتہ روز 10 نہتے بلوچوں کے قتل عام کیخلاف سراپا احتجاج عوام نے ضلعی انتظامیہ کے دفترپردھاوا بول دیا۔

با خبر ذرائع کے مطابق مظاہرین نے سراوان کے علاقے کے ضلعی دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔

https://twitter.com/freedommesenger/status/1364134645827272704

سراوان شہر میں شہریوں کے قتل عام کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگوں نے مشرقی بلوچستان کی سرحد کے قریب پٹرول فروخت کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے دفتر کا گھیراﺅ کیا۔

اس موقع پر پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے مظاہرین پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں کم سے کم 10 مظاہرین جاں بحق ہوگئے۔

بلوچ ایکٹویسٹ مہم کے مطابق سوموار کی شام ایرانی فورسز نے پٹرول فروخت کرنے والے کم سے کم 15 افراد کو گولیاں ماریں۔

بلوچ ایکٹویسٹ مہم کی جانب سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے جس میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو اندھا دھند گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

https://twitter.com/balochcampaign/status/1363882064504905732

فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں کی شناخت یحییٰ کنکوزئی، عبدالرحمان شہرسان زئی، عبدی شہرسان زئی، سلمان شہرسان زئی، رحمان بخش دھواری، عبدالوہاب دامنی، انس زادہ، عبدالغفور توتازئی، محمد میر بلوچ زئی اور محمد نصر زئی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زخمیوں کو سراوان اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

الرازی اسپتال میں لائے گئے زخمیوں کے علاج کے لیے خون کی قلت کا سامنا ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ واقعے کے بعد سراوان شہر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے اور شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔

مشتعل مظاہرین نے سروان شہر میں پولیس کی ایک گاڑی کو نذرآتش کر دیا۔

https://twitter.com/freedommesenger/status/1364136980209090563

بلوچ ایکٹویسٹ مہم کے مطابق پٹرول فروشوں پر مشتمل کچھ لوگوں نے پاسداران انقلاب کے مرکز کے باہر احتجاج کیا۔ انہوںٓ نے سرحد کھولنے اور پٹرول فروخت کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا مگر پاسداران انقلاب نے ان پر گولیاں برسا دیں۔

ذرائع کے مطابق پاسداران انقلاب نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ‘مرصاد’ اڈے پر موجود فوجیوں سے بھی مدد طلب کی۔

Share This Article
Leave a Comment