اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی صدر جوبائیڈن کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے جس کے تحت حوثی باغیوں کی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا درجہ 16 فروری کو ختم ہوجائے گا۔
غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق امریکا کی نئی انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آخری لمحات پر کیے گئے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے یمن میں انسانی بحران کے باعث حوثی باغیوں کی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا درجہ ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ جوبائیڈن کا فیصلہ ‘یمن میں سنگین انسانی بحران’ کو تسلیم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، کانگریس کے دو طرفہ ممبروں اور دیگر کی انتباہ کو سنا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے یمنیوں کی زندگی پر تباہ کن اثر پڑ سکتے ہیں جس سے انہیں کھانے اور ایندھن جیسی بنیادی اشیا تک رسائی حاصل نہیں ہوگی’۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے امریکی اقدام کو انتہائی مثبت قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم امید کرتے ہیں کہ امریکی فصیلے سے یمن میں تنازع کے سیاسی حل کے لیے مدد ملے گی’۔
ان کا کہناتھا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ حوثی باغیوں سے متعلق فیصلہ، یمن کے لیے خصوصی مندوب کا نام، اور انتظامیہ اور صدر جوبائڈن کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے بھر پور حمایت کا اظہار واقعی بہت، بہت خوش آئند ہیں’۔
واضح رہے کہ یمن 90فیصد خوراک درآمد کرتا ہے جو اقوام متحدہ سمیت تمام تجاری چینلوں سے خریدتا ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں واضح طور پر کہہ چکی تھیں کہ اس طرح کے اقدام سے یہ انسانی المیہ مزید تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔
اقوام متحدہ نے یمن کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیا ہے جہاں اس کے 80فیصد افراد ضرورت مند ہیں۔