آج کا دن مجھے ایسی کئی دنوں کی یاد دلاتاہے کہ ہم نے مسکراتے اپنے پیاروں کی میت اٹھا اٹھاکر مادر وطن کی خوشبو مٹی کی آغوش میں دفنا دیے جس کی تسلسل میرے ہمکارواں بلوچ راجی رہشون بانک کریمہ بلوچ نے ایک شیرزال بلوچ بیٹی کی طرح نبھاتی ہوئی جام شھادت نوش فرمائی جو ہرایک آزادی پسند رہنما جہد کار کی دلی خواہش ہوتی ہے جو بھی اس کاروانِ آزادی کی ہمسفر ہوکر اپنی قومی غلامی اور محکومیت کو مدنظر رکھ کر قبضہ گیر وحشی ریاست سے آنکھیں ملاتے ہوئے جوانمردی اورایک شرزال کی حیثیت سے اپنی بقاء ننگ وناموس کی دفاع اور اپنی آنے والے نسلوں کی روشن مستقبل کی جدوجہد میں کمربستہ ہوکر عملی وشعوری بنیادوں پر نکلتی ہے تو وہ اپنی ذہن میں تین خواہشات رکھتے ہیں زندان،شہادت یا پھر آزادی کی سورج کی دیدار۔ان تینوں چیزوں کے سوا قومی جہد کاروں کی اورکوئی آرزو نہیں۔
بانک کریمہ بلوچ بھی ایک انقلابی گھرانے میں پرورش پاکر اپنی قومی فریضہ نبھاتی رہی۔بانک کریمہ بلوچ سے اکثر میرا رابطہ ایک بلوچ سیاسی جہد کار کی طرح ہوتی رہتی۔ 2006 میں کریمہ بلوچ،صالح گہرام بلوچ اور اپنی چچا جان واحد کمبر بلوچ کی رہائی کمیٹی کی پلیٹ فارم پر سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہے اور ان کی رہائی کیلئے کراچی،کوئٹہ، تربت،تمپ،مند اور بلوچستاں کے کونے کونے میں کیمپئن چلاتی رہی اور اس دوران 2006 کا ایک واقعہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شھہید جاوید اختر کی چہلم کیلئے منداورتمپ کا قافلہ بلیدہ جارہا تھا تو بانک کریمہ اس کاروان میں بھی ہمسفر تھیں تو میں نے کہا کریمہ جاں اپنی جدوجہد کو صالح اور کمبر کے رہائی تک محدود نہ کریں بلکہ اس جدوجہدکی رہنمائی کریں جس مقصد کیلئے واحدکمبر ساتھیوں کے ساتھ پابند زندان ہیں۔اس سوچ اور نظریہ کی ہمسفر بن کر آگے بڑھتی چلو۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا”بھائی جان مایوس نہیں کرونگی۔“
پھر میں اگست 2007 میں کوئٹہ پریس کلب میں ان سے ملا جو لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کیلئے بلوچ خواتین پینل کی پلیٹ فارم سے بھو ک ہڑتالی کیمپ چل رہی تھی اس دوراں شہید غلام محمدبلوچ اور شہیدشیر محمد بلوچ بھی لاپتہ تھے اور قبضہ گیرکے ریاستی ٹارچر سیلوں میں بندتھے۔ اس بھوک ہرتال کمپ میں شرکت کیلئے میں نے اپنی بیٹی خیریہ بلوچ کے ساتھ شہید غلام محمد اور تمام بلوچ مسنگ پرسنز کی بازیابی کیلئے شرکت کی۔تو کریمہ بلوچ اورساتھیوں کے ساتھ وہاں موجود تھی۔اسی دوران8 اگست 2007 کو کریمہ بلوچ نے رات تقریباََ 8 بجے مجھے فون کیا اور کہا کیاآپ کو معلوم ہے کہ آج مند میں بلوچ سرمچاروں اور قبضہ گیر فوج کے درمیاں جھڑپ ہواہے،دو بلوچ سرمچار شہید ہوئے ہیں جن میں چھوٹو کا حال بھی ہے چھوٹو وہ اپنے چھوٹے چچا شہید خالد جان کو کہتی تھیں مجھے بالکل اس کا علم نہ تھا۔میں نے کہا نہیں مجھے علم نہیں مگر دوستوں سے رابطہ کرکے معلوم کرونگا۔
اس دوران گفتگو میں اس شیر زال کی دلیری اور جرات دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ جھکنے والی نہیں۔یہ واقع تصدیق ہواتو دوسرے دن کریمہ بلوچ ہنستی ہنستی ہوئی ہمیں رخصت کرکے تمپ چلی گئی اور ہمارا کیمپ 20 اگست 2007 تک چلتی رہی۔اس کے بعد اس شیر زال بیٹی نے اپنی قومی فرائض کو اپنی زندگی کا حصہ بناکر بلوچ قوم کی رہنمائی کرتی رہی،جس کی پاداش میں ریاست بلوچ قومی تحریک کے سامنے اپنا شکست دیکھ کر کریمہ بلوچ کی کی تلاش میں کینیڈا تک پیچھا کرتے ہوئے انہیں جسمانی طورپر ہم سے جدا کرلی مگر آج جو روشنی ان کی لہو مبارک نے بخشا اس کی تپش سے دشمن کی قبضہ گیری جل کر بحربلوچ میں سمندر میں بہہ جائے گا۔آج اگر کریمہ بلوچ جسمانی حوالے ہم سے جدا کردی گئی تو اس کا واضح سبب اُن کی سیاسی سرگرمیاں تھیں۔ شہید بانک کریمہ اگر زندہ رہنا چاہتی تو بہت سے مفاداتی لیڈر نما شخصیات کی طرح چپ کا روزہ رکھ کر زندہ رہ سکتی تھی کیونکہ ایسی کئی سابقہ نمائشی لیڈروں نے کینڈا،افریقہ یا دوسری یورپی ممالک میں بلوچ کاز کے نام پر پناہ لے کر جہد سے کنارہ کش ہوکر آسائش کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ان کی مقصد بلوچستان کی محکومی اور تحریک سے وابستگی نہیں بلکہ انہیں ذاتی مفادات اور زندہ رہنا مقصود ہے کیونکہ جو دشمن کی بربریت کا مقابلہ کرکے بلوچ کاز میں سرگرم عمل ہوتے ہیں تووہ بانک شہید کریمہ اور شہید ساجد حسین کی طرح موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں جو مفاداتی زندگی سے ہزاروں گنا بہتر ہے۔